ایلون مسک کے پاس دولت ہے ، دنیا کا مشہور ترین الیکٹرک گاڑیوں کا برانڈ ہے اور سرمایہ کاروں کا بھروسا بھی ہے مگر گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق چین کے پاس کچھ ایسا ہے جس کی نقل آسان نہیں اور جو مسک خرید نہیں سکتے ۔
جی ہاں وہ چیز کوئی نئی گاڑی نہیں، بلکہ ایک پورا نظام ہے ، چین میں بیٹری بنانے کا ہر مرحلہ، خام مال کی پروسیسنگ سے لے کر فیکٹری اور گاڑی تک، ایک ہی ملک کے اندر موجود ہے ، اس کے اوپر حکومت کا ایک قومی منصوبہ بھی ہے جس کا مقصد آل سالڈ اسٹیٹ بیٹریوں کو لیبارٹری سے نکال کر 2030 تک ابتدائی بڑے پیمانے کے استعمال تک پہنچانا ہے۔
اس حکمت عملی کا دائرہ صرف گاڑیوں تک نہیں بلکہ گرڈ اسٹوریج، بحری جہاز، ہوا بازی، کم بلندی پر اڑنے والے طیارے، روبوٹس اور بھاری مشینری بھی اس میں شامل ہیں۔
سالڈ اسٹیٹ بیٹری کیوں اہم ہے؟
روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں میں مائع الیکٹرولائٹ ہوتا ہے، جبکہ آل سالڈ اسٹیٹ بیٹری میں اس کی جگہ ٹھوس مادہ لیتا ہے ، اس سے زیادہ توانائی، بہتر حفاظت، تیز چارجنگ اور طویل عمر کی امید کی جاتی ہے۔
چین کی طاقت کہاں ہے؟
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق چین کے پاس سی اے ٹی ایل اور بی وائی ڈی جیسی عالمی سطح کی کمپنیاں موجود ہیں جو کسی بھی نئی دریافت کو مارکیٹ تک لے جا سکتی ہیں۔
ایک اور تجزیے کے مطابق مواد کی پروسیسنگ، آلات کی تیاری اور بیٹری انجینئرز کا گہرا ذخیرہ براہ راست سالڈ اسٹیٹ ٹیکنالوجی میں منتقل ہو سکتا ہے۔
اعداد و شمار بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ چین کے پاس سالڈ اسٹیٹ بیٹری کے عالمی پیٹنٹس کا تقریباً 35 فیصد حصہ ہے، جبکہ چینی کمپنیوں کی 2030 تک تقریباً 171 گیگاواٹ آور سپلائی کی منصوبہ بندی ہے۔
ابھی کیا پیشرفت؟
سی اے ٹی ایل 2027 میں سلفائیڈ پر مبنی بیٹری کی محدود آزمائشی پیداوار کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ بڑے پیمانے کی پیداوار 2030 کے قریب متوقع ہے۔
دوسری طرف ٹویوٹا نے 2027-28 میں آل سالڈ اسٹیٹ بیٹری کو مارکیٹ میں لانے کا ہدف رکھا ہے، یعنی دوڑ صرف چین تک محدود نہیں۔
گلف نیوز کی رپورٹ خود تسلیم کرتی ہے کہ بیجنگ کا منصوبہ ارادے کا اعلان ہے، یہ ثبوت نہیں کہ مسئلہ حل ہو چکا ہے ، چنگان آٹو کے ایک عہدیدار پہلے کہہ چکے ہیں کہ یہ بیٹریاں 2030 سے پہلے تجارتی طور پر تیار نہیں ہوں گی ۔ مزید یہ کہ چین نے لیتھیم آئن فیکٹریوں میں اربوں ڈالر لگا رکھے ہیں، جنہیں یہی نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں پرانا بنا سکتی ہے۔
اب مقابلہ صرف گاڑیوں کے سافٹ ویئر، چارجنگ نیٹ ورک اور برانڈ کا نہیں رہا ، جو ملک بیٹری ٹیکنالوجی میں سبقت لے گا، آنے والے برسوں میں توانائی اور ٹرانسپورٹ کی دنیا پر اسی کا اثر ہوگا ، چین کے پاس ریاستی حمایت اور صنعتی بنیاد ہے، مگر ٹیکنالوجی کا اصل امتحان اب بھی باقی ہے۔