تحریک انصاف کی مقبولیت دکھانے کا نیا فارمولا بھی بے نقاب ہو گیا ، سہیل آفریدی سہیل آفریدی کی جعلی اے آئی تصویروں کو فیسبک اے آئی نے پکڑ لیا
تحریک انصاف کا سب سے بڑا پیج سیاست پی کے بھی دو نمبریوں میں بازی لے گیا۔
پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ سوشل میڈیا پیج سیاست پی کے کی ایک پوسٹ نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سہیل آفریدی کے پشاور پہنچنے کے موقع پر پیج کی جانب سے ایک تصویر شیئر کی گئی جس میں بڑا عوامی ہجوم دکھائی دے رہا تھا۔
تاہم اس تصویر کے حوالے سےسوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں اسے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیا گیا ہے۔
ویڈیو کے مطابق فیس بک کے خودکار نظام نے مذکورہ تصویر کو ’’اے آئی مواد‘‘ کے طور پر نشان زد کیا۔
یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر سیاست پی کے کی پوسٹ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر استقبال کے موقع پر حقیقی ہجوم کم تھا تو مصنوعی تصویر کے ذریعے بڑا مجمع دکھانا عوامی تاثر کو متاثر کرسکتا ہے۔
سوشل میڈیا کی سیاست میں عوامی اجتماعات اور استقبال کی تصاویر سیاسی مقبولیت دکھانے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں۔
ایسے میں کسی حقیقی منظر کو مصنوعی ہجوم کے ذریعے بڑا بنا کر پیش کرنے کا تاثر سیاسی تشہیر پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے طنزیہ انداز میں یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ جب استقبال کے لیے ہجوم کم پڑ گیا تو کیا اے آئی سے مدد لینا پڑی؟
معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس مصنوعی تصویر سے بڑا استقبال دکھانے کی کوشش کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اسی پر فیس بک کا اے آئی نظام بھی متوجہ ہوگیا۔
ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس بک نے تصویر کو عام تصویر کے بجائے اے آئی سے تیار کردہ مواد کے طور پر شناخت کیا۔