خیبر پختونخوا کے وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد نے تحریک انصاف کی قیادت کی ہدایات پر عمل کرنے میں ناکامی پر خود ہی اپنے اغواء کا ڈرامہ رچا لیا ۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے ڈاکٹر امجد کو اپنے حلقے سے کارکنوں کو مبینہ احتجاجی مارچ میں لانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مطلوبہ تعداد میں کارکن جمع نہ ہونے کے بعد ڈاکٹر امجد نے پارٹی قیادت کو خاموش رکھنے کے لیے مبینہ طور پر اپنے ہی گھر پر کارروائی کروائی۔
ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے دوران توڑ پھوڑ اور فائرنگ بھی کی گئی جس کے بعد ڈاکٹر امجد موقع سے فرار ہوگئے۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر امجد نے مبینہ کارروائی کے ذریعے پارٹی قیادت کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ان کی رہائش گاہ پر حملہ ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد ڈاکٹر امجد کی جانب سے پارٹی قیادت کو صورتحال سے متعلق مختلف مؤقف پیش کیا گیا۔
تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور ڈاکٹر امجد یا تحریک انصاف کی جانب سے اس الزام پر باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے متعلقہ پولیس اور دیگر حکام کا مؤقف بھی اہم ہوگا۔


