تمباکو پر ٹیکس بڑھانے، گرافک ہیلتھ وارننگز بڑی کرنے اور تشہیری پابندیاں سخت کرنے کا مطالبہ

تمباکو پر ٹیکس بڑھانے، گرافک ہیلتھ وارننگز بڑی کرنے اور تشہیری پابندیاں سخت کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد میں پارلیمنٹیرینز، اعلیٰ سرکاری حکام، ریگولیٹرز، ماہرین صحت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے تمباکو کے استعمال میں کمی کے لیے ٹیکس میں اضافے، سگریٹ پیکٹس پر گرافک ہیلتھ وارننگز کو بڑا کرنے اور تمباکو کی تشہیر، فروغ اور اسپانسرشپ سے متعلق قوانین پر سختی سے عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں اورت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’گرافک ہیلتھ وارننگز کے استحکام اور تمباکو پر ٹیکس میں اضافے سے متعلق آگاہی‘ کے عنوان سے اسٹیک ہولڈرز اجلاس منعقد ہوا، جس میں پارلیمنٹیرینز، وزارت قومی صحت، ریگولیشنز و کوآرڈینیشن، ٹوبیکو کنٹرول سیل، پیمرا، ماہرین صحت اور سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

چیف گیسٹ اور پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی ورثہ فرح ناز اکبر نے کہا کہ تمباکو کنٹرول کو قومی ترجیح برقرار رہنا چاہیے اور نوجوان نسل کو تمباکو کے استعمال کے صحت اور سماجی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اجتماعی اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کردار عوامی صحت سے متعلق شواہد کو مؤثر قانون سازی اور پالیسیوں میں تبدیل کرنے میں اہم ہے، جبکہ بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو کی لت سے محفوظ رکھنا صرف صحت کا نہیں بلکہ اجتماعی قومی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔

فرح ناز اکبر نے تمباکو کے استعمال میں کمی کے لیے ٹیکس کو مؤثر ترین ذرائع میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو پر ٹیکس بڑھانے سے مصنوعات بالخصوص نوجوانوں کے لیے کم قابل استطاعت بن سکتی ہیں جبکہ حکومت کے لیے اضافی وسائل بھی پیدا ہوں گے۔

انہوں نے سگریٹ پیکٹس پر گرافک ہیلتھ وارننگز کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ بڑی اور نمایاں وارننگز سگریٹ نوشی کے صحت پر اثرات کو صارفین کے لیے زیادہ واضح کرتی ہیں اور بالخصوص نوجوانوں اور پہلی بار استعمال کرنے والوں کے لیے روک تھام کا ذریعہ بنتی ہیں۔

پارلیمانی سیکریٹری نے تمباکو کی تشہیر، فروغ اور اسپانسرشپ پر عائد پابندیوں کے مؤثر نفاذ کی ضرورت پر بھی زور دیا، بالخصوص تیزی سے تبدیل ہوتے ڈیجیٹل ماحول میں۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو کمپنیاں اشتہارات، اسپانسرشپ، سوشل میڈیا، بالواسطہ تشہیر یا مارکیٹنگ کے دیگر طریقوں سے بچوں اور نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

ایم این اے حما چغتائی نے تمباکو کنٹرول کے لیے معاشرے کی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون ساز اس معاملے میں پیچھے نہیں رہیں گے۔ انہوں نے سگریٹ پیکٹس پر گرافک ہیلتھ وارننگز کا حجم بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ میں قرارداد لانے کا اعلان کیا۔

ڈائریکٹر ٹوبیکو کنٹرول سیل ڈاکٹر ارسلان حیدر نے گرافک ہیلتھ وارننگز اور پاکستان کی جانب سے تمباکو کنٹرول سے متعلق کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد سمیت مؤثر تمباکو کنٹرول پالیسیوں کے فروغ میں ٹوبیکو کنٹرول سیل کے کردار پر روشنی ڈالی۔

پیمرا کے ڈائریکٹر جنرل راحت علی نے تمباکو کی تشہیر، فروغ اور اسپانسرشپ کی روک تھام اور موجودہ پابندیوں پر عملدرآمد یقینی بنانے میں ریگولیٹری اداروں کی ذمہ داری اجاگر کی۔

اس سے قبل اورت فاؤنڈیشن کے ٹیم لیڈ سید صفدر رضا نے استقبالیہ کلمات میں تمباکو کنٹرول سے متعلق پارلیمانی اور عوامی آگاہی کو مضبوط بنانے کے لیے تنظیم کی جاری کوششوں پر روشنی ڈالی۔

وزارت قومی صحت، ریگولیشنز و کوآرڈینیشن کے ٹوبیکو کنٹرول سیل سے وابستہ آفتاب احمد نے پاکستان میں تمباکو کنٹرول کی صورتحال اور عالمی ادارہ صحت کے ’MPOWER‘ فریم ورک کا جائزہ پیش کرتے ہوئے تمباکو کنٹرول کے اقدامات، خصوصاً گرافک ہیلتھ وارننگز کے مؤثر نفاذ کی اہمیت اجاگر کی۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے ڈین ڈاکٹر متیع الرحمٰن نے ’تمباکو کے بڑھتے ہوئے صحت کے خطرات‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے معاشرے سے ہر شکل میں تمباکو کے استعمال کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس کے شرکا نے اتفاق کیا کہ تمباکو کنٹرول کے لیے حکومت اور معاشرے کے تمام شعبوں پر مشتمل مشترکہ حکمت عملی درکار ہے، جس میں پارلیمنٹ، سرکاری وزارتیں، ریگولیٹری ادارے، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی اور کمیونٹیز مل کر تمباکو کے استعمال میں کمی کے لیے کام کریں۔

اجلاس کے اختتام پر شواہد پر مبنی تمباکو کنٹرول پالیسیوں کو آگے بڑھانے اور ایسے اقدامات کے لیے وکالت مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا جو تمباکو کے استعمال کی ابتدا روکنے، ترکِ تمباکو کی حوصلہ افزائی اور موجودہ و آنے والی نسلوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوں۔

اورت فاؤنڈیشن نے پارلیمنٹیرینز، سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر صحت مند اور تمباکو سے پاک پاکستان کے لیے کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Related Articles