حرمین شریفین کی حرمت سرخ لکیر، مصنوعی ذہانت سے جعلی ویڈیوز اور آوازیں بنانا کبیرہ گناہ اور حرام عمل ہے، چیف امام کعبہ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن السدیس

حرمین شریفین کی حرمت سرخ لکیر، مصنوعی ذہانت سے جعلی ویڈیوز اور آوازیں بنانا کبیرہ گناہ اور حرام عمل ہے، چیف امام کعبہ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن السدیس

حرمین شریفین کی حرمت سرخ لکیر، مصنوعی ذہانت سے جعلی ویڈیوز اور آوازیں بنانا کبیرہ گناہ اور حرام عمل ہے، چیف امام کعبہ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن السدیس

چیف امام کعبہ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن السدیس نے مسجد الحرام میں جمعے کا خطبہ دیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت ایک ناقابلِ عبور سرخ لکیر ہے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔

مسجد الحرام میں اجتماعِ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن السدیس نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور اہم شہری تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ وزیراعظم شہباز شریف آج کیا فیصلہ کریں گے؟

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ حرمین شریفین پر کسی بھی قسم کی جارحیت دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے اور مقدس مقامات کی حرمت ایک ایسی سرخ لکیر ہے جسے عبور کرنے کی جرات کسی کو نہیں دی جا سکتی۔

مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال

خطبے کے دوران عصرِ حاضر کے اہم فکری و تکنیکی مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے امام کعبہ نے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے منفی استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذرائع سے جعلی ویڈیوز اور آوازیں تخلیق کر کے انہیں پھیلانا صریحاً جھوٹ اور شرعی اعتبار سے ایک حرام عمل ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس عظیم نعمت کو صرف اطاعتِ الٰہی، اخلاقِ حسنہ اور انسانیت کی خوشنودی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

حرمین کے دشمنوں کا انجام رسوائی

دوسری جانب، مسجد نبوی کے امام شیخ خالد المعینا نے بھی اپنے خطبہ جمعہ میں حرمین شریفین کے تقدس اور مقام پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے واضح کیا کہ حرمین شریفین سے عداوت اور دشمنی رکھنے والے عناصر ہمیشہ ناکامی، گمراہی اور ابدی رسوائی کا شکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ مکہ مکرمہ روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کا مقدس ترین گھر ہے اور اس کے نزدیک دنیا کا سب سے محبوب اور برگزیدہ خطہ ہے۔

مزید پڑھیں:بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلات میں بڑا اضافہ،ستمبر میں کتنے ڈالر آئے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

حرمین شریفین کی سلامتی اور تحفظ کا مسئلہ اسلامی دنیا کی روحانی بنیادوں سے پیوست ہے۔ تاریخی طور پر جب بھی کسی خارجی قوت یا فتنہ پرور گروہ نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، پوری امتِ مسلمہ نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اس کا دفاع کیا۔

حالیہ برسوں میں خطے کی سورتِ حال اور حوثی ملیشیا کی جانب سے ہونے والی کارروائیوں کے تناظر میں حرمین شریفین کے تحفظ اور غیور مسلمانوں کے جذباتی وابستگی کا یہ اظہار خطے میں امن کے تسلسل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

مقدس مقامات کے تقدس اور ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرنا اس بات کا غماز ہے کہ دینی قیادت عصرِ حاضر کے جدید چیلنجز اور ڈیجیٹل فتنوں سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ 

حرمین شریفین کی حرمت کو سرخ لکیر قرار دینا دراصل امتِ مسلمہ کی اجتماعی غیرت اور دفاعی لکیر کی علامت ہے۔ دوسری جانب، مصنوعی ذہانت کے ذریعے پھیلنے والے جھوٹ اور پروپیگنڈے پر بر وقت قدغن لگانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی شریعت جدید سائنسی ترقی کو انسانیت کی فلاح اور اخلاقی دائرے میں رکھنے کی حامی ہے۔

Related Articles