تعلیم میں اے آئی کی سہولت یا نقل کا نیا راستہ؟95 فیصد طلبہ اے آئی سے اسائنمنٹ لکھوانے لگے

تعلیم میں اے آئی کی سہولت یا نقل کا نیا راستہ؟95 فیصد طلبہ اے آئی سے اسائنمنٹ لکھوانے لگے

امریکا میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیمی اسائنمنٹس تیار کرنے کا رجحان اساتذہ کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 95 فیصد طلبہ اسائنمنٹ لکھنے کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس سے مدد لے رہے ہیں۔

 اس صورت حال نے تعلیمی دیانت داری اور طلبہ کی حقیقی سیکھنے کی صلاحیت سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بعض طلبہ خود تحقیق اور تحریر کرنے کے بجائے چیٹ بوٹس سے تیار شدہ جوابات حاصل کر رہے ہیں۔

اساتذہ کو خدشہ ہے کہ اس طریقے سے طلبہ معلومات سمجھنے کے بجائے صرف درست جواب حاصل کرنے پر توجہ دینے لگیں گے۔

سیکھنے کا تاثر یا حقیقی علم؟

اساتذہ کی تشویش صرف نقل تک محدود نہیں رہی بلکہ طلبہ کی تعلیمی صلاحیتوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اے آئی سے تیار شدہ جواب جمع کرانے سے طالب علم بظاہر کام مکمل کر لیتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ وہ متعلقہ موضوع کو سمجھ بھی چکا ہو۔

اس رجحان کو سیکھنے کی خوش فہمی سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اس کیفیت میں طالب علم کو محسوس ہوتا ہے کہ اس نے معلومات حاصل کر لی ہیں جبکہ حقیقت میں اس کی اپنی سمجھ محدود رہ سکتی ہے۔

اے آئی تحریر پکڑنا مشکل

اے آئی سے تیار شدہ تحریروں کو انسانی انداز دینے والے نئے پروگرامز نے اساتذہ کے لیے نقل کی نشاندہی مزید مشکل بنا دی ہے۔ یہ پروگرام مشینی تحریر کو زیادہ فطری اور عام انسانی تحریر سے ملتا جلتا بنا سکتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :گوگل نے جی میل کو اے آئی پاور دے دی

رپورٹس کے مطابق اس صورت حال میں اے آئی تحریر پکڑنے والے نظاموں اور انہیں چھپانے کے طریقوں کے درمیان مقابلہ بڑھ گیا ہے۔ محققین کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اساتذہ کے لیے دونوں طرح کی تحریروں میں فرق کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو رہا ہے۔

اس مسئلے سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ صرف اے آئی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر پر انحصار کرنا کتنا مؤثر ہے۔ اگر تحریر کو انسانی انداز میں تبدیل کر دیا جائے تو اس کی اصلیت جانچنے کے لیے دوسرے طریقوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اے آئی پر انحصار کے علمی اثرات

کوپن ہیگن یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کی ایک تحقیق میں مصنوعی ذہانت پر مسلسل انحصار کے ممکنہ علمی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق تحقیق میں 27 مختلف بڑے لسانی ماڈلز اور اے آئی چیٹ بوٹس کا جائزہ شامل تھا۔

تحقیق کے مطابق بہترین کارکردگی دکھانے والے اے آئی چیٹ بوٹ سے حاصل ہونے والی معلومات میں گوگل سرچ کے مقابلے میں 19 فیصد کم تنوع پایا گیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض حالات میں چیٹ بوٹس صارفین کو مختلف زاویوں کے بجائے ملتے جلتے جوابات فراہم کر سکتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :سپارکو نے پاکستان کی پہلی جیو اے آئی کلائمیٹ آبزرویٹری قائم کر دی

جب صارفین بار بار ایک ہی طرز کے جوابات پر انحصار کرتے ہیں تو انہیں موضوع کے مختلف پہلوؤں تک رسائی محدود مل سکتی ہے۔ اس سے آزادانہ تحقیق اور متبادل خیالات پر غور کرنے کی عادت بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

سہولت کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری

مصنوعی ذہانت تعلیم میں معلومات تک رسائی اور تحریری کام میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم اس کے استعمال اور طالب علم کی اپنی محنت کے درمیان فرق برقرار رکھنا تعلیمی اداروں کے لیے اہم چیلنج بن گیا ہے۔

اس صورت حال میں اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف تیار شدہ اسائنمنٹ کے بجائے طلبہ کی موضوع پر گرفت اور استدلال کو بھی جانچیں۔ زبانی سوالات، عملی سرگرمیاں اور تحقیق کے مراحل کی جانچ اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب طلبہ کے لیے بھی اے آئی کو مکمل متبادل بنانے کے بجائے سیکھنے کے معاون ذریعے کے طور پر استعمال کرنا اہم ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ٹیکنالوجی طالب علم کی سمجھ بڑھا رہی ہے یا اس کی جگہ کام کر رہی ہے۔

editor

Related Articles