خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ وزیراعظم شہباز شریف آج کیا فیصلہ کریں گے؟

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ وزیراعظم شہباز شریف آج کیا فیصلہ کریں گے؟

وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور امن و امان سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ، گورنر راج اور وفاقی حکومت کی جانب سے اہم اختیارات استعمال کرنے سمیت مختلف آئینی آپشنز پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔

 اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہوگا جس میں اہم وفاقی وزراء اور وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔ اجلاس کے دوران وزارت داخلہ کے حکام خیبرپختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، امن و امان کو درپیش چیلنجز اور عوام کے تحفظ سے متعلق اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں صوبے کی موجودہ صورتحال کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے گا، جبکہ قومی سلامتی کے اداروں کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹس بھی زیرغور آئیں گی۔ صورتحال پر غور کے بعد صوبے میں امن و امان کی بہتری اور عوام کے تحفظ کے لیے ممکنہ اقدامات سے متعلق اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سمیت مختلف آئینی راستوں پر غور کیا جائے گا۔ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق کسی تجویز پر پیش رفت کی صورت میں وفاقی کابینہ کی منظوری حاصل کیے جانے کا امکان ہے جس کے لیے وزیراعظم شہباز شریف وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کی ہٹ دھرمی یا عوامی لاتعلقی؟ لانگ مارچ کا کیمپ ویران ہوگیا

اس سے قبل سامنے آنے والی تجاویز کے مطابق خیبرپختونخوا کے سابق قبائلی علاقوں سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز زیرغور رہی ہے۔ ان تجاویز میں صوبے کے بعض اہم اختیارات وفاقی حکومت کے استعمال میں دینے کا معاملہ بھی شامل ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ متعلقہ اجلاس میں غور و خوض کے بعد متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق آئین کے آرٹیکلز 232 سے 234 تک کے تحت دستیاب اختیارات اور ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیے جانے کا بھی امکان ہے۔ ان آئینی شقوں کے تحت مختلف غیرمعمولی حالات میں اقدامات کے لیے الگ الگ شرائط اور طریقہ کار مقرر ہیں اس لیے کسی بھی اقدام کا انحصار متعلقہ آئینی تقاضوں اور قانونی عمل پر ہوگا۔

اجلاس میں اس امر کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے، امن و امان برقرار رکھنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر کیا اقدامات کیے جائیں۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کے ممکنہ کردار، اختیارات کے استعمال اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری سے متعلق تجاویز بھی زیرغور آنے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ اس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں مختلف آئینی آپشنز پر غور کیا جائے گا۔ تاہم ایمرجنسی کے نفاذ، گورنر راج یا وفاقی حکومت کی جانب سے اختیارات استعمال کرنے کے حوالے سے تاحال کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

اجلاس کے بعد سامنے آنے والے فیصلوں سے واضح ہوگا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کرتی ہے اور آیا اس سلسلے میں وفاقی کابینہ سے منظوری لینے کی ضرورت پیش آتی ہے یا نہیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles