پی ٹی آئی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔
انہوں نے اس ممکنہ اقدام کو حماقت قرار دیتے ہوئے صوبے کی سیاسی صورت حال اور پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمت عملی پر بھی تنقید کی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی نے احتجاج کے لیے 40 لاکھ افراد لانے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم ان کے بقول احتجاج کے حوالے سے عملی تیاری موجود نہیں تھی۔
ایمرجنسی کے نفاذ کی تیاری
شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ روز یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایمرجنسی کو 12 اضلاع تک محدود رکھا جائے گا۔
انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کو حماقت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی اکابرین چاہتے ہیں کہ انہیں بھی کچھ عرصے کے لیے حکومت مل جائے۔
تاہم ان کا یہ بیان ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق دعویٰ ہے۔ فراہم کردہ خبر میں حکومتی سطح پر اس کی حتمی منظوری یا نفاذ کی تاریخ کی تصدیق شامل نہیں۔
پی ٹی آئی کے احتجاج پر سوالات
شیر افضل مروت نے کہا کہ تحریک انصاف نے 27 تاریخ کو پیش قدمی نہیں کی تاکہ مذاکرات کے لیے کچھ وقت مل سکے۔ ان کے مطابق مذاکرات سے متعلق اعلامیہ جاری ہونے والا تھا تو محمود اچکزئی سے رابطہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ محمود اچکزئی نے پیغام دیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ شیر افضل مروت کے مطابق اس صورت حال کے باعث احتجاجی پیش رفت نہیں ہوسکی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مارچ کرنا ہوتا تو متعلقہ قیادت اب تک نکل چکی ہوتی۔ ان کے بقول یہ واضح ہونا چاہیے کہ آخر کون سی چیز انہیں مارچ کرنے سے روک رہی ہے۔
15 اکتوبر سے پہلے آنے کی دعوت
شیر افضل مروت نے کہا کہ انہوں نے احتجاج میں شرکت کے خواہش مند افراد کو دعوت دی ہے کہ وہ 15 اکتوبر سے پہلے آجائیں۔ ان کے مطابق لکی مروت میں جمع ہونے والے مجمع میں پورے جنوبی اضلاع کے لوگ شامل تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں ترقیاتی کام روک دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ارکان قومی اسمبلی، ارکان صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزرا کے فنڈز بھی منجمد کردیے گئے ہیں۔
تاہم فراہم کردہ خبر میں ترقیاتی کاموں اور فنڈز کی بندش کے دعووں کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔
وزیراعلیٰ کے اختیارات پر تنقید
شیر افضل مروت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اختیارات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پاس بس اتنا اختیار ہے کہ وہ ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔
ان کا یہ بیان صوبائی حکومت کے اختیارات اور سیاسی حکمت عملی پر تنقید کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ تاہم دستیاب خبر میں وزیراعلیٰ کی جانب سے اس بیان پر کوئی ردعمل شامل نہیں۔