آدھی صدی کی تحقیق کے بعد بڑی کامیابی، نیوکلیئر گھڑیاں تیار

آدھی صدی کی تحقیق کے بعد بڑی کامیابی، نیوکلیئر گھڑیاں تیار

آسٹریا اور چین کے سائنسدانوں نے دنیا کی پہلی 2 فعال نیوکلیئر گھڑیاں تیار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں وقت کی انتہائی درست پیمائش اور کائنات کے بنیادی قوانین کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

سائنس کی دنیا میں اس اہم پیش رفت کے بعد وقت کی پیمائش کے نئے طریقوں پر کام کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی نہ صرف جدید گھڑیوں کو زیادہ مستحکم بنانے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ ڈارک میٹر جیسے پراسرار سائنسی موضوعات کی تحقیق کے لیے بھی نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یوٹیوب کا پرانا انداز بدلنے کی تیاری، نئی آزمائش پر تنقید

2 ممالک کے سائنسدانوں کی بڑی کامیابی

معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی دو الگ الگ تحقیقی رپورٹس کے مطابق، ویانا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور چین کی شنگھوا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے آزادانہ طور پر کام کرتے ہوئے تقریباً ایک ہی وقت میں یہ کامیابی حاصل کی۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، دونوں ٹیموں کی تیار کردہ گھڑیاں فی الحال کارکردگی کے اعتبار سے جدید ایٹمی گھڑیوں کے برابر ہیں۔ تاہم، مستقبل میں اس ٹیکنالوجی سے وقت کی پیمائش میں مزید بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔

نیوکلیئر گھڑی آخر ہے کیا؟

نیوکلیئر گھڑی کا نام سن کر اسے جوہری توانائی پیدا کرنے والی مشین سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ درحقیقت، اس ٹیکنالوجی کا تعلق ایٹم کے مرکزے سے ہے، جہاں پروٹونز اور نیوٹرانز موجود ہوتے ہیں۔

روایتی ایٹمی گھڑیاں وقت کی پیمائش کے لیے ایٹم کے بیرونی حصے میں موجود الیکٹرانز کی توانائی میں تبدیلیوں کو استعمال کرتی ہیں۔ اس کے برعکس، نیوکلیئر گھڑی ایٹمی مرکزے کی توانائی کی حالتوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر کام کرتی ہے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو دونوں ٹیکنالوجیز وقت ناپنے کے لیے ایٹم کے اندر موجود قدرتی نظام کو استعمال کرتی ہیں، لیکن ان کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔

تھوریم 229 نے کیسے ممکن بنایا؟

اس سائنسی کامیابی میں تھوریم 229 نامی عنصر کے ایک خاص آئسوٹوپ نے بنیادی کردار ادا کیا۔ آئسوٹوپ کسی عنصر کی ایسی قسم ہوتی ہے جس کے ایٹم میں پروٹونز کی تعداد یکساں، لیکن نیوٹرانز کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔

سائنسدانوں نے تھوریم 229 کو کیلشیم فلورائیڈ کے ٹھوس کرسٹل میں شامل کرکے اس کی توانائی کی حالتوں میں تبدیلیوں کا مطالعہ کیا۔ ویانا کی تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر تھورسٹن شم کے مطابق، سائنسدان تقریباً نصف صدی سے نیوکلیئر گھڑی بنانے کے تصور پر کام کر رہے تھے۔ ان کی ٹیم نے اس منصوبے پر 2008 میں باقاعدہ تحقیق شروع کی تھی۔

چینی ٹیم کے سربراہ شی چیان ڈنگ کے مطابق، دو آزاد ٹیموں کا مختلف تکنیکی طریقوں سے ملتے جلتے نتائج حاصل کرنا اس تصور کی سائنسی بنیاد کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تعلیم میں اے آئی کی سہولت یا نقل کا نیا راستہ؟95 فیصد طلبہ اے آئی سے اسائنمنٹ لکھوانے لگے

روایتی ایٹمی گھڑیاں کیسے وقت بتاتی ہیں؟

جدید ایٹمی گھڑیاں سیزیم اور اسٹرونشیم جیسے عناصر کی مدد سے وقت کی پیمائش کرتی ہیں۔ ان میں ایٹموں کی توانائی کی مخصوص حالتوں کے درمیان تبدیلیوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔

ان تبدیلیوں کی فریکوئنسی انتہائی باقاعدہ ہوتی ہے، جس کی مدد سے گھڑی وقت کو بہت درست انداز میں ناپ سکتی ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا کے کئی اہم نظام درست وقت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ان میں سیٹلائٹ نیوی گیشن، جی پی ایس، مواصلاتی نیٹ ورکس اور مالیاتی نظام شامل ہیں۔

نیوکلیئر گھڑی زیادہ مستحکم کیوں ہوسکتی ہے؟

ایٹم کا مرکزہ اس کے بیرونی الیکٹرانز کے مقابلے میں بیرونی برقی اور مقناطیسی اثرات سے مختلف انداز میں متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے سائنسدانوں کو امید ہے کہ نیوکلیئر گھڑی بعض بیرونی عوامل کے خلاف زیادہ مستحکم ثابت ہوسکتی ہے۔

اگر اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا گیا تو مستقبل میں زیادہ درست، مستحکم اور ممکنہ طور پر چھوٹے سائز کی گھڑیاں تیار کی جاسکتی ہیں۔ تاہم، اس کے عملی فوائد جاننے کے لیے مزید تحقیق اور تکنیکی ترقی کی ضرورت ہوگی۔

جی پی ایس اور انٹرنیٹ میں کیا تبدیلی آسکتی ہے؟

درست وقت کی پیمائش جدید دنیا کے کئی نظاموں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ جی پی ایس میں سیٹلائٹس سے آنے والے سگنلز کے وقت کا درست حساب لگا کر مقام کا تعین کیا جاتا ہے۔

اسی طرح انٹرنیٹ، موبائل نیٹ ورکس اور مالیاتی لین دین میں بھی وقت کی درست مطابقت ضروری ہوتی ہے۔

اگر مستقبل میں نیوکلیئر گھڑیاں موجودہ ایٹمی گھڑیوں سے زیادہ درست اور قابل اعتماد ثابت ہوئیں تو ان نظاموں میں مزید بہتری کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ البتہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نئی ٹیکنالوجی فوری طور پر موجودہ نظاموں کی جگہ لے لے گی۔

ڈارک میٹر کے راز جاننے میں بھی مدد مل سکتی ہے

اس ایجاد کا ایک اہم پہلو بنیادی طبیعیات کی تحقیق ہے۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ انتہائی حساس نیوکلیئر گھڑیاں کائنات کے بنیادی قوانین کو زیادہ باریک بینی سے جانچنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی ڈارک میٹر کی ممکنہ موجودگی یا اس کے اثرات سے متعلق بعض نظریات کی جانچ کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے۔ ڈارک میٹر ایسا پراسرار مادہ ہے جسے براہ راست دیکھنا ممکن نہیں، لیکن سائنسدان کائنات میں اس کے کشش ثقل سے متعلق اثرات کے شواہد کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، نیوکلیئر گھڑیاں آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت کی مزید درست جانچ کے لیے بھی نئے مواقع فراہم کرسکتی ہیں۔

کیا یہ وقت کی پیمائش کا نیا دور ہے؟

آسٹریا اور چین کی ٹیموں کی یہ کامیابی ایک اہم سائنسی سنگ میل ہے، لیکن نیوکلیئر گھڑیوں کو روزمرہ زندگی میں استعمال کرنے کے لیے ابھی مزید کام کرنا ہوگا۔

اگر سائنسدان ان کی درستگی، استحکام اور عملی استعمال کو مزید بہتر بنانے میں کامیاب ہوگئے تو مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی نہ صرف وقت کی پیمائش بلکہ کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایک اہم سوال بھی اٹھاتی ہے، کیا مستقبل میں وقت ناپنے کے لیے ایٹم کے مرکزے کو استعمال کرنا موجودہ ٹیکنالوجی سے زیادہ درست ثابت ہوگا؟ اس کا حتمی جواب آنے والی تحقیق دے گی۔

editor

Related Articles