لاہور ہائیکورٹ نے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے حقوق سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد محکمانہ انکوائری ختم ہونا ملازم کا قانونی حق ہے۔
تفصیلات کے مطابق عدالت نے واضح کیا ہے کہ پیڈا ایکٹ میں 25 فروری 2026 کو کی گئی ترمیم کا اطلاق ماضی کے ان معاملات پر نہیں ہو سکتا جو قانون کے تحت پہلے ہی ختم ہو چکے ہوں۔
جسٹس مزمل اختر شبیر نے سابق سی ای او ہیلتھ نارووال ڈاکٹر خالد جاوید کی درخواست منظور کرتے ہوئے پیڈا ایکٹ کے تحت جاری محکمانہ انکوائری اور پنشن روکنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے پنجاب حکومت کو ڈاکٹر خالد جاوید کی پنشن کے تمام واجبات فوری ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔
درخواست گزار کے خلاف محکمہ صحت نے 2022 سے محکمانہ انکوائری زیر التوا ہونے کی بنیاد پر پنشن روک رکھی تھی،عدالت نے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ محکمانہ انکوائریاں مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے کا خمیازہ ریٹائرڈ ملازم کو نہیں بھگتنا پڑ سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پیڈا ایکٹ میں ترمیم کو ماضی سے نافذ نہیں کیا جا سکتا، جب تک قانون میں اس حوالے سے واضح طور پر کوئی شق موجود نہ ہو، ترمیمی قانون کا اطلاق مستقبل کے معاملات پر ہوگا، جبکہ پہلے سے ختم شدہ مقدمات کو محض نئی ترمیم کی بنیاد پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد محکمانہ انکوائری ختم ہونے کے قانونی اصول کو برقرار رکھا، عدالت نے قرار دیا کہ مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد انکوائری کا خاتمہ ریٹائرڈ ملازم کا قانونی حق ہے۔
عدالت نے اس اہم قانونی نکتے پر اپنے فیصلے کو عدالتی نظیر قرار دیا ہے، فیصلے کو ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن اور محکمانہ انکوائریوں سے متعلق مقدمات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔