خیبر پختونخوا کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل، اہم شعبوں کی ذمہ داریاں تجربہ کار شخصیات کے سپرد

خیبر پختونخوا کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل، اہم شعبوں کی ذمہ داریاں تجربہ کار شخصیات کے سپرد

خیبر پختونخوا کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دے دی گئی ہے، جس میں داخلہ و قبائلی امور، خزانہ، قانون، تعلیم، صحت، معدنیات، صنعت و تجارت، مواصلات و تعمیرات، اوقاف و مذہبی امور، توانائی، منصوبہ بندی و ترقی اور اطلاعات و نشریات سمیت اہم شعبوں کے لیے مختلف شخصیات کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ کونسل میں سابق اعلیٰ سرکاری افسران، ماہرینِ قانون، تعلیم و صحت کے شعبوں سے وابستہ شخصیات اور تجربہ کار کاروباری افراد شامل ہیں۔

اہم شعبوں کے لیے مشیر مقرر

کفایت اللہ خان کو داخلہ و قبائلی امور کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ ماضی میں انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، چیئرمین فاٹا ٹریبونل اور ڈپٹی سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور کے عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان اور مردان کے کمشنر بھی رہ چکے ہیں۔

طارق محمود پاشا کو خزانہ، ریونیو، ایکسائز و ٹیکسیشن کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ وہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں، جبکہ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے ریونیو، سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن اور جوائنٹ سیکرٹری وزیراعظم سیکرٹریٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

قانون و پارلیمانی امور کے لیے امیر جاوید کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ سپریم کورٹ کے وکیل ہیں اور ماضی میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان کے عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔

تعلیم اور صحت کے شعبے

تعلیم کے شعبے میں ڈاکٹر سید امیر عبداللہ کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ خیبر پختونخوا کے سابق نگران صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت رہ چکے ہیں اور نیکٹا کی ماہرین کی کمیٹی کے رکن کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے نیدرلینڈز سے بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔

صحت کے شعبے کی ذمہ داری لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان کو دی گئی ہے۔ وہ پاک فوج کی سابق سرجن جنرل اور پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل ہیں۔ انہیں ہسپتالوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کے حوالے سے قومی انسٹرکٹر کے طور پر بھی تجربہ حاصل ہے، جبکہ انہوں نے پبلک ہیلتھ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

معدنیات، صنعت و تجارت اور تعمیرات

معدنیات کے شعبے کے لیے ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ ماضی میں منصوبہ بندی و ترقی اور مواصلات و تعمیرات کے شعبوں میں مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے فرانس سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔

صنعت و تجارت کے شعبے میں ڈاکٹر محمد ارشاد کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سابق چیئرمین اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے بورڈ کے رکن رہ چکے ہیں۔ ان کے پاس فنانس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی ہے۔

مواصلات و تعمیرات کے لیے آصف رفیق آفریدی کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ خیبر پختونخوا کے سابق نگران صوبائی وزیر ہیں اور کاروباری شعبے سے وابستہ ہونے کے ساتھ تعمیرات و ترقیاتی امور کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔

مذہبی امور، توانائی اور اطلاعات

اوقاف و مذہبی امور کے لیے مولانا محمد طیب قریشی کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ خیبر پختونخوا کے چیف خطیب ہیں، جامعہ اشرفیہ پشاور کے منتظم کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور مسجد مہابت خان کے امام بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :دھرنوں سے تنگ کاروباری طبقہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر خوش، مارکیٹوں اور دکانوں میں جشن، مٹھائیاں تقسیم

توانائی، بجلی، منصوبہ بندی و ترقی کے شعبوں کی ذمہ داری عثمان سیف اللہ خان کو دی گئی ہے۔ وہ سابق سینیٹر ہیں اور غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ کے بورڈ آف گورنرز کے رکن رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان اسٹیٹ آئل کے سابق بورڈ آف مینجمنٹ کے رکن اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے سابق چیئرمین بھی ہیں۔

اطلاعات و نشریات کے شعبے کے لیے ثمر ہارون بلور کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ رکن قومی اسمبلی ہیں اور اس سے قبل خیبر پختونخوا اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کی چیئرپرسن کے طور پر بھی خدمات انجام دی ہیں۔

اہم شعبوں میں مشاورت کا نیا انتظام

11 رکنی ایڈوائزری کونسل میں شامل شخصیات کے تجربے اور پیشہ ورانہ پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف محکموں سے متعلق امور میں مشاورت کی ذمہ داریاں تقسیم کی گئی ہیں۔ کونسل میں مالیاتی و انتظامی امور کے تجربہ کار افسران کے ساتھ قانون، تعلیم، صحت، معدنیات، کاروبار، توانائی اور مذہبی امور سے وابستہ شخصیات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

کونسل کی تشکیل کو صوبے کے اہم شعبوں کے لیے تجربہ کار شخصیات کی خدمات سے استفادہ کرنے کے انتظام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان مشیروں کے متعلقہ شعبوں میں تجربے کی بنیاد پر توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرۂ کار میں پالیسی سازی، انتظامی معاملات اور ترقیاتی ترجیحات سے متعلق امور پر رہنمائی فراہم کریں گے۔

editor

Related Articles