خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے فوراً بعد سینیٹر دوست محمد بھی اچانک منظرِ عام سے غائب ہو گئے ہیں، جس کے بعد ان کی عدم موجودگی اور روپوشی سے متعلق مختلف سوالات جنم لینے لگے ہیں۔ ایوانوں میں سیاسی گفتگو کرنے والے اور تحریک انصاف کے فرنٹ لائن رہنما کے طور پر ابھرنے والے سینیٹر دوست محمد کی اقتدار کے خاتمے کے بعد منظر سے دوری سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گئی ہے۔
سیاسی منظرنامے میں تبدیلی کے ساتھ ہی سینیٹر دوست محمد کی غیر موجودگی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے مخالفین کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ وہ ممکنہ قانونی کارروائی اور احتساب کے خدشات کے باعث منظرِ عام سے دور ہوئے ہیں۔ ان کے ماضی کے سیاسی اور انتظامی کردار سے متعلق معاملات پر اگر قانونی جانچ پڑتال شروع ہوتی ہے تو اس صورت میں متعلقہ حقائق اور ذمہ داریوں کا تعین قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔
دوسری جانب سینیٹر دوست محمد کے حامیوں اور سوشل میڈیا پر سرگرم بعض پیجز کی جانب سے یہ تاثر سامنے آ رہا ہے کہ انہیں نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ان کی عدم موجودگی کے اصل حالات کیا ہیں اور آیا وہ کسی قانونی یا انتظامی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں یا نہیں۔
ان کی روپوشی سے پہلے گاڑی سڑک پر چھوڑے جانے کے واقعے کو بھی مختلف انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ ناقدین اس واقعے کو عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ اس حوالے سے حتمی رائے قائم کرنے کے لیے مستند معلومات اور واقعات کی مکمل تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی شخصیات کے کردار، سابقہ دور کے فیصلوں اور ممکنہ بے ضابطگیوں سے متعلق معاملات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ایسے حالات میں سینیٹر دوست محمد کی غیر موجودگی نے سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ خود سامنے آ کر اپنی پوزیشن واضح کریں گے یا ان کی عدم موجودگی کے حوالے سے پھیلنے والی قیاس آرائیاں مزید بڑھتی رہیں گی۔
سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر توجہ مرکوز ہے کہ اگر سینیٹر دوست محمد کے خلاف کوئی شکایت یا قانونی معاملہ موجود ہے تو اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہییں اور حقائق کی روشنی میں کارروائی آگے بڑھنی چاہیے۔ اسی طرح اگر انہیں زبردستی کہیں منتقل کیے جانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو ان دعوؤں کی بھی تصدیق ضروری ہے۔ سینیٹر دوست محمد کی جانب سے واضح مؤقف سامنے آنے اور متعلقہ حقائق کی تصدیق سے ہی اس معاملے سے جڑے سوالات کا جواب مل سکے گا۔