خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر سیاسی منظرنامہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے، بالآخر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت سے عوام کی جان چھوٹ گئی اور وفاق کی جانب سے گورنر راج نافذ کر دیا گیا ہے۔
اس اہم پیش رفت سے جہاں صوبہ خیبر پختونخوا کی عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے وہیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا منظرنامہ بھی یکسر تبدیل نظر آتا ہے نہ تو اسلام آباد میں کوئی احتجاج، نہ نعرے، نہ جھنڈے ، کے پی کے کی حکومت گزرنے کے باوجود وفاقی دارالحکومت میں کسی قسم کی سیاسی ہلچل یا احتجاج کا نام و نشان تک دکھائی نہیں دے رہا ہے اور ٹریفک معمول کے مطابق ہے ، معمولات زندگی رواں دواں ہیں ، لوگ اپنے روزمرہ کے کام انجام دیتے نظرآ رہے ہیں .
شہری خیبرپختونخوا میں گورنر راج پر خوش ہیں کیونکہ سہیل آفریدی کی حکومت نے صوبے میں امن و ترقی تو کیا ، کچھ بھی کرنے میں ناکام رہی ہے اور عوام کو صرف سڑکوں پر رسوا ہی کیا ہے ۔
صوبی خیبرپخوکخوا سے انتشاری حکومت کا خاتمہ صوبے کے عوام کیلئے خوشی کی خبر ہے کیونہ انکے سہیل آفردی اپنے عوام کو چھوڑ کر انتشار پھیلانے میں مصروف ہیں، اسلام آباد شہری https://t.co/ks2eEIfWFS
ماضی کی روایت کے برعکس جب بھی پی ٹی آئی حکومت یا قیادت پر کوئی ایسی صورتحال آتی تھی تو دارالحکومت کی سڑکیں نعروں اور لال ہری ٹوپیوں سے بھر جاتی تھیں، مگر اس بار صورتحال بالکل الگ ہے ، سڑکوں پر مکمل سکون ہے ، اسلام آباد کی اہم شاہراہوں بشمول ریڈ زون، ڈی چوک اور سری نگر ہائی وے پر ٹریفک بلا تعطل اور معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔
شہر کی سڑکوں پر نہ پی ٹی آئی کا کوئی جھنڈا نظر آ رہا ہے اور نہ ہی ایک بھی کارکن یا رہنما احتجاج کے لیے نکلتا دکھائی دے رہا ہے ، شہر کے تمام تجارتی مراکز، مارکیٹس اور ریسٹورنٹس کھلے ہیں اور شہری کسی بھی خوف و ہراس سے بے نیاز اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کار اسلام آباد کی اس خاموشی کو بے حد اہمیت دے رہے ہیں جہاں ایک طرف کے پی کے میں سہیل آفریدی حکومت کے ختم ہونے اور انتظامیہ کی تبدیلی پر پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں کی روپوشی کا سلسلہ جاری ہے وہیں عوامی ردعمل کا نہ ہونا سیاسی بیزاری اور پی ٹی آئی کی عوام سے کیے گئے پرانے وعدے نہ پورے ہونے کی بھی وجہ نظر آتے ہیں ، وہ رہنما جو عوام کو کئی سالوں سے ترقی اور قیدی کی رہائی کا لالچ دے کر انہیں لانگ مارچ میں آنے پر مجبور کرتے رہے ہیں وہ آج خود ہی دم دبا کر بھاگ نکلے ہیں ، حقیقت تو یہ ہے کہ عوام آج ان رویوں سے تنگ آچکے ہیں اور ان کیلئے پی ٹی آئی کی قیادت کی باتیں اب بے معنی ہیں ۔
خیبرپختونخوا کی سیاست میں حکومت کی تبدیلی کے بعد رہنماؤوں کا اس طرح ایک ایک کر کے غائب ہونا اور ایک ہی انداز کے ہتھکنڈے اپنانا محض اتفاق نہیں ہے ، سوشل میڈیا کے ذریعے سچی اور جھوٹی افواہیں پھیلا کر عوامی جذباتی حمایت حاصل کرنے کی یہ کوششیں وقتی تو ہو سکتی ہیں، مگر قانون کا نظام ہمیشہ ٹھوس حقائق اور شواہد کی بنیاد پر کام کرتا ہے جہاں ایسے ڈرامے بالاخر بے نقاب ہو کر رہ جاتے ہیں۔
اسلام آباد کا یہ پُرسکون ماحول اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ صوبائی سطح کے سیاسی فیصلوں کا اثر وفاقی دارالحکومت کے عوام اور روزمرہ کے معمولات پر فی الحال ذرہ برابر بھی نہیں پڑا اور شہر میں مکمل سکون قائم ہے۔