دھرنوں سے تنگ کاروباری طبقہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر خوش، مارکیٹوں اور دکانوں میں جشن، مٹھائیاں تقسیم

دھرنوں سے تنگ کاروباری طبقہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر خوش، مارکیٹوں اور دکانوں میں جشن، مٹھائیاں تقسیم

ملک بھر کے تاجروں اور کاروباری حلقوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق وفاقی حکومت کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اظہارِ تشکر کیا ہے۔ تاجروں کے مطابق مسلسل دھرنوں، احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں، جس سے تاجروں، دکانداروں اور عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کے باعث اہم شاہراہوں کی بندش، ٹریفک کی روانی میں خلل اور تجارتی مراکز تک رسائی میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ اس صورت حال سے نہ صرف دکانوں اور مارکیٹوں میں خریداروں کی آمد متاثر ہوتی ہے بلکہ مال برداری، سامان کی ترسیل اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کا روزگار بھی متاثر ہوتا ہے۔

تاجروں کے مطابق کاروبار پہلے ہی مہنگائی، بڑھتے اخراجات اور معاشی دباؤ جیسے مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں طویل دھرنے اور احتجاج کاروباری مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں معاشی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے امن و امان، سڑکوں کی کھلی رسائی اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی سنگین صورت حال، آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کی قانونی شرائط کیا ہیں؟

کاروباری حلقوں نے امید ظاہر کی کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے نتیجے میں صورت حال بہتر ہوگی اور عوام کو آمدورفت اور کاروباری سرگرمیوں میں درپیش مشکلات کم ہوں گی۔ ان کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے معمولاتِ زندگی، کاروبار اور روزگار کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

تاجروں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ سیاسی اختلافات اور احتجاجی سرگرمیوں کے دوران عام شہریوں اور کاروباری طبقے کو مشکلات سے بچانے کے لیے تمام متعلقہ فریق ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔

تاہم ملک بھر کے تاجروں کی جانب سے اس فیصلے پر اظہارِ تشکر اور خوشی کے دعوے کی آزادانہ تصدیق کے لیے کسی تجارتی تنظیم یا نمائندے کا باضابطہ بیان سامنے آنا ضروری ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles