رسی جل گئی بل نہ گیا،پی ٹی آئی کے بڑے بھگوڑے شہزاد اکبر کاجھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ بے نقاب

رسی جل گئی بل نہ گیا،پی ٹی آئی کے بڑے بھگوڑے شہزاد اکبر کاجھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ بے نقاب

 آزاد فیکٹ چیک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تحریک انصاف سے وابستہ ایک اکاؤنٹ کی جانب سے جعلی واٹس ایپ پیغام کا اسکرین شاٹ شیئر کرنے اور اسے آئی ایس پی آر سے منسوب کرنے کے معاملے کی نشاندہی کی ہے۔ 

فیکٹ چیک کے مطابق زیرِ گردش اسکرین شاٹ جعلی ہے اور اسے ایک گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی بیانیہ تشکیل دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے،  فیکٹ چیک کے مطابق پی ٹی آئی کے بھگوڑے شہزاد اکبر نے  ایکس پر  واٹس ایپ پیغام کے اسکرین شاٹ کو شیئر کرتے ہوئے اسے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) سے جوڑنے کی کوشش کی اس اقدام کے ذریعے سوشل میڈیا صارفین کے سامنے ایک ایسا تاثر پیش کیا گیا جس کی بنیاد جعلی اسکرین شاٹ پر تھی۔

فیکٹ چیک نے واضح کیا ہے کہ یہ اسکرین شاٹ حقیقی نہیں، بلکہ اسے گمراہ کن بیانیے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہےایسے مواد کو مستند ادارے سے منسوب کرکے پھیلانے سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہونے اور غیر مصدقہ معلومات کو حقیقت سمجھنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

اس معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ ایک غیر مصدقہ واٹس ایپ پیغام کو براہِ راست آئی ایس پی آر سے منسوب کیا گیا کسی پیغام یا اسکرین شاٹ کو کسی سرکاری یا ریاستی ادارے سے منسوب کرنے کے لیے محض سوشل میڈیا پوسٹ کافی نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اصلیت اور متعلقہ ادارے سے تعلق کی تصدیق ضروری ہوتی ہے۔

 آزاد  فیکٹ چیک نے اس اسکرین شاٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے اس کے ذریعے گمراہ کن تاثر پیدا کرنے کی نشاندہی کی ہے، اس معاملے میں اصل پیغام، اس کے بھیجنے والے اور آئی ایس پی آر سے اس کے کسی تعلق کے حوالے سے کوئی مستند تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے اسکرین شاٹ کو حقیقی سرکاری پیغام سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

 سوشل میڈیا پر سیاسی معاملات سے متعلق تصاویر، اسکرین شاٹس اور پیغامات تیزی سے پھیلتے ہیں، تاہم ہر وائرل مواد مستند نہیں ہوتا۔ خصوصاً جب کسی پیغام کو فوج، سرکاری اداروں یا اہم شخصیات سے منسوب کیا جائے تو اس کی تصدیق کیے بغیر اسے آگے پھیلانا غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

editor

Related Articles