خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد سابق صوبائی حکمران علی امین گنڈا پور کرپشن کے خوف سے روپوش ہو گئے ہیں اور قانونی گرفت سے بچنے کے لیے خود ساختہ اغوا کے ڈرامے رچا رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی صوبے کے سابق حکمران اور سینیئر رہنما علی امین گنڈا پور اچانک منظرِ عام سے روپوش ہو چکے ہیں۔
کئی سالوں تک صوبے کی باگ ڈور سنبھالنے والے اور روزانہ میڈیا پر بڑے بڑے دعوے کرنے والے علی امین گنڈا پور کے سر سے جیسے ہی اقتدار کا سایہ اٹھا، وہ اپنے خلاف ہونے والی ممکنہ قانونی کارروائیوں کے شدید خوف سے فوری طور پر غائب ہو گئے۔
کرپشن کے ثبوت اور قانونی گرفت کا خوف
باخبر ذرائع کے مطابق علی امین گنڈا پور اور ان کے قریبی ساتھی اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ان کے دورِ اقتدار میں ہونے والی کرپشن اور بدعنوانی کے متعدد ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں۔
اب انہیں اپنے ہر ایک جرم کا حساب قانون کی منصفانہ عدالت میں دینا پڑے گا۔ اسی احتساب اور قانون کی سخت گرفت سے بچنے کے لیے انہوں نے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت روپوشی اور خود ساختہ اغواء کا ڈرامہ رچایا ہے۔
سوشل میڈیا پروپیگنڈا
سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ بے بنیاد افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ علی امین گنڈا پور کو کسی نامعلوم مقام پر زبردستی منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
وہ خود قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے محفوظ پناہ گاہوں میں جا چھپے ہیں۔ روپوش ہونے سے قبل ان کے زیرِ استعمال گاڑیوں کو سڑکوں پر لاوارث چھوڑنے جیسے ڈرامائی مناظر جان بوجھ کر تیار کیے گئے تاکہ عوام اور میڈیا کی ہمدردیاں سمیٹی جا سکیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تفتیشی پیشرفت کو بری طرح متاثر کیا جا سکے۔
سیاسی اور انتظامی پس منظر کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ عمل اس بات کا واضح عکاس ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر عوامی وسائل سے کھیلنے والے عناصر جب اقتدار سے محروم ہوتے ہیں تو ان کا پہلا ردعمل قانون کا سامنا کرنے کے بجائے فرار کی راہیں تلاش کرنا ہوتا ہے۔
ماضی کے تجربات بھی گواہ ہیں کہ احتساب سے بچنے کے لیے ایسے ڈرامے رچانا عوامی خدمت کے دعوؤں کی حقیقت کو آشکار کر دیتا ہے۔
علی امین گنڈا پور کا اس طرح اچانک غائب ہو جانا اور خود ساختہ اغوا کے ہتھکنڈے استعمال کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون کی گرفت سے کوئی بھی بااختیار فرد ہمیشہ کے لیے بچ نہیں سکتا، اور حقائق بالاخر سامنے آ ہی جاتے ہیں۔