سابق صوبائی وزیر اور سینئر سیاسی رہنما فیاض الحسن چوہان نے خیبر پختونخوا کی حکومت سے متعلق سیاسی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کی رخصتی صوبے کے عوام کے لیے خوشخبری ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ سہیل آفریدی کے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں اور اب صوبے میں تبدیلی کی امید پیدا ہوئی ہے۔
فیاض الحسن چوہان نے اپنے بیان میں خیبر پختونخوا کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں صوبے کو محرومیوں، پسماندگی اور انتظامی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق صوبے کے عوام نے تحریک انصاف پر بھرپور اعتماد کیا، تاہم وہ توقعات پوری نہیں ہو سکیں جو اقتدار میں آنے کے وقت عوام سے وابستہ تھیں۔
سابق صوبائی وزیر نے پی ٹی آئی کی قیادت اور صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی کے دور میں بدعنوانی، بے حسی اور ناقص حکمرانی سے متعلق شکایات سامنے آتی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو جن مسائل کے حل کی امید تھی، ان پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی اور صوبے کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت برقرار رہی۔
فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ جب کسی حکومت کے دور میں عوامی مسائل بڑھتے جائیں اور شہریوں کی توقعات پوری نہ ہوں تو سیاسی تبدیلی کی ضرورت شدت اختیار کر جاتی ہے۔ انہوں نے سہیل آفریدی کی رخصتی کے حوالے سے طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اب انہیں آرام سے وقت گزارنا چاہیے، جبکہ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کے حل اور بہتر حکمرانی پر توجہ دی جانی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے شہری بھی ملک کے دیگر حصوں کے عوام کی طرح امن، تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے حق دار ہیں۔ صوبے میں پائیدار امن کے قیام، بدعنوانی کی روک تھام، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ عام شہریوں کو حکومتی پالیسیوں کے حقیقی فوائد حاصل ہو سکیں۔
فیاض الحسن چوہان نے اپنے بیان میں اس امید کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا میں آئندہ سیاسی و انتظامی اقدامات کے نتیجے میں عوامی مسائل کے حل، امن و امان کی بہتری اور معاشی و ترقیاتی سرگرمیوں کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔ ان کے مطابق عوام کو محض سیاسی نعروں کے بجائے ایسے عملی نتائج درکار ہیں جو ان کی زندگیوں میں بہتری لا سکیں۔
واضح رہے کہ فیاض الحسن چوہان کے بیان میں پی ٹی آئی اور سہیل آفریدی کی حکومتی کارکردگی پر سیاسی تنقید اور الزامات شامل ہیں۔ صوبائی حکومت کی رخصتی اور اختیارات کی منتقلی سے متعلق حتمی صورت حال کا تعین متعلقہ آئینی کارروائی اور سرکاری اعلان سے ہوگا۔