خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے ساتھ ہی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 13 سالہ اقتدار اور تاریک دور کا باقاعدہ خاتمہ ہو گیا ہے، جس کے بعد صوبے کی سیاسی صورتحال میں شدید ہلچل مچ گئی ہے اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صوبے میں آئینی ردوبدل اور آئین کے آرٹیکل 232 و 234 کے تحت کارروائی کے فوراً بعد سابق صوبائی قیادت اور اہم رہنما روپوش ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس تمام تر صورتحال میں تحریک انصاف کے سینئر رہنما سہیل آفریدی اور جنید اکبر نے حفاظتی تحویل کی شرط پر ازخود اپنی گرفتاری پیش کر دی ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کر کے حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی درخواست کی، جس کے بعد انہیں سیکیورٹی فراہم کرتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کی سیاسی فضا میں اچانک اور بڑا آئینی ردوبدل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے ساتھ ہی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 13 سالہ اقتدار کا باقاعدہ خاتمہ ہو گیا ہے۔ وفاق کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام کے بعد صوبائی سیاست اور انتظامی امور میں شدید ہلچل مچ گئی ہے جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں میں بے یقینی اور سراسیمگی کی لہر دوڑ گئی ہے اور رہنماؤں کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے ہیں۔
آئینی شقوں کے تحت کارروائی اور رہنماؤں کی روپوشی
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ اور کارروائی کے فوراً بعد سابق صوبائی قیادت اور اہم رہنما روپوش ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انتظامی سطح پر ہونے والی اس بڑی تبدیلی کے باعث صوبائی حکومت تحلیل ہو چکی ہے اور تمام اہم امور کا کنٹرول تبدیل کر دیا گیا ہے، جس سے سابق حکمران جماعت کے صفوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔
حفاظتی تحویل کی شرط پر ازخود گرفتاری اور جنید اکبر کی تصدیقی ٹویٹ
اس تمام تر کشیدہ اور تذبذب کی صورتحال کے دوران تحریک انصاف کے سینئر رہنما سہیل آفریدی اور جنید اکبر نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر دیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے حفاظتی تحویل کی شرط پر ازخود اپنی گرفتاری پیش کی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں پی ٹی آئی رہنماؤں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا اور اپنی حفاظت کے پیش نظر حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی باضابطہ درخواست کی، جس کے بعد حکام نے ضروری سیکیورٹی فراہم کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اپنی گرفتاری کی خبر سے متعلق خود بھی ٹویٹ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ کچھ عرصے سے سیکیورٹی خدشات، امن و امان کی خراب صورتحال اور صوبائی انتظامیہ کی جانب سے آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں حائل مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا۔
انہی وجوہات کی بنا پر ایوانِ صدر اور وفاقی سطح پر اہم مشاورت کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کو فعال کرتے ہوئے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں جہاں پی ٹی آئی کا 13 سالہ طویل اقتدار اختتام پذیر ہوا، وہیں صوبے کی باگ ڈور اور انتظامی اختیارات بھی نئی حکمتِ عملی کے تحت منتقل کر دیے گئے ہیں۔