خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد رہنما شفیع جان قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے منظرنامے سے غائب ہو کر خود ساختہ اغوا کا ڈراما رچا رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا کی سیاسی فضا میں پی ٹی آئی حکومت کے زوال کے بعد یکایک پیدا ہونے والی صورتحال میں رہنما شفیع جان بھی اچانک منظرنامے سے غائب ہو چکے ہیں۔
برسوں تک صوبائی اقتدار کے مزے لوٹنے والے شفیع جان کے سر سے جیسے ہی اقتدار کا ہما اڑا، انہوں نے قانون کا سامنا کرنے کے بجائے روپوشی اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر راج،ایمرجنسی کا خوف، شفیع جان نے سکیورٹی ہٹانے کا نیا ناٹک شروع کر دیا
پارٹی کے دیگر سینیئر رہنماؤں کی طرح انہیں بھی بخوبی معلوم ہے کہ اب ان کے خلاف آئینی اور قانونی کارروائی کا وقت قریب آ پہنچا ہے، اور انہیں ماضی کے تمام فیصلوں کا کڑا حساب دینا ہوگا۔
خود ساختہ اغوا کا ڈراما اور پروپیگنڈا
اس متوقع قانونی کارروائی کو روکنے اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے شفیع جان نے بھی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت خود ساختہ اغوا کا سہارا لیا ہے۔
روپوش ہونے سے قبل علاقے میں مبینہ فائرنگ اور ان کی گاڑی کو سڑک کے کنارے لاوارث چھوڑنے کے ڈرامائی واقعات پیش کیے گئے تاکہ یہ تاثر گہرا کیا جا سکے کہ وہ کسی گہری سازش یا حملے کا شکار ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں کی جانب سے ’نامعلوم افراد‘ کے ذریعے اغوا کیے جانے کی من گھڑت خبریں گردش کر رہی ہیں، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
قانون سے فرار


