وفاقی وزیر امیر مقام نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں کے ہمراہ اعلان کیا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی حمایت پر قائم ہے اور 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ منایا جائے گا۔
وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران امیر مقام نے اسلام آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور عوامِ پاکستان مشکل کی ہر گھڑی میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہر پاکستانی کو اپنا بھرپور اور موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایک کشمیری اور پاکستانی کے زندہ رہنے تک حریت پسندوں کی حمایت کا عزم برقرار رہے گا اور پاکستان ہر سفارتی و اخلاقی محاذ پر ان کی آواز بنتا رہے گا۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے بھارتی جیلوں میں قید شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور دیگر ممتاز کشمیری رہنماؤں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی قوانین اور غیر انسانی سزائیں کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو ہرگز ختم نہیں کر سکتیں۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی سیاہ دور اقتدار میں ’کے پی‘ شعبہ تعلیم میں 92 کروڑ روپے سے زیادہ کی سنگین مالی بے ضابطگیاں سامنے آگئیں
اس موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما غلام محمد صفی نے 27 اکتوبر کو ملک بھر میں ‘یومِ سیاہ’ منانے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ اس سلسلے میں اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، مظفرآباد اور گلگت بلتستان سمیت مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات اور پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ عالمی برادری کے سامنے مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔
مسئلہ کشمیر کا عالمی پس منظر اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری
غلام محمد صفی کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے تمام تر باطل دعوؤں کے برعکس کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازع علاقہ ہے۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ 57 مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم نے بھی اقوام متحدہ سے کشمیر سے متعلق منظور شدہ قراردادوں پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے اور کشمیریوں کو ان کا بنیادی اور مسلمہ حقِ خودارادیت دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
سفارتی حکمت عملی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد


