خیبر پختونخوا، بنوں میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، 2 ارب 25 کروڑ روپے کی سرکاری زمین واگزار

خیبر پختونخوا، بنوں میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، 2 ارب 25 کروڑ روپے کی سرکاری زمین واگزار

خیبر پختونخوا میں نئی صوبائی انتظامیہ کے قیام کے بعد ضلع بنوں میں تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر کے اربوں روپے کی سرکاری زمین واگزار کروا لی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا میں نئی صوبائی حکومت کے انتظام سنبھالتے ہی ضلع بنوں میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت کے واضح اور سخت احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ، ٹی ایم اے اور ڈبلیو ایس ایس سی نے مشترکہ طور پر کارروائی کرتے ہوئے بنوں بازار کے اندر قائم تمام ناجائز تجاوزات کو مسمار کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈی آئی خان میں قبضہ مافیا کے قدم اکھڑ گئے، تجاوزات کیخلاف بھرپور آپریشن جاری، اربوں کی اراضی واگزار

اس کے علاوہ اسپتال کے سامنے موجود غیر قانونی دکانوں اور تھڑوں کو بھی ہٹا دیا گیا ہے جبکہ نالیوں اور نالوں کے اوپر کی گئی ناجائز تعمیرات کو بھی یکسر مسمار کر دیا گیا ہے تاکہ شہر کا بنیادی ڈھانچہ اور نکاسیِ آب کا نظام بہتر ہو سکے۔

ریلوے زمین کی واگزاری اور اربوں روپے کا معاشی اثر

ضلعی انتظامیہ کے مطابق آپریشن کے دوران ایک بڑی کامیابی ریلوے اراضی کی واگزاری کی صورت میں سامنے آئی ہے، جس پر قبضہ مافیا گزشتہ کئی سالوں سے قابض تھا اور وہاں دکانیں اور دیگر مستقل تعمیرات قائم کر رکھی تھیں۔

انتظامیہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 12 کنال سے زیادہ کی سرکاری اور ریلوے زمین کامیابی سے ریکور کی جا چکی ہے، جس کی موجودہ مارکیٹ مالیت تقریباً 2 ارب 25 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔

انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ جب تک تمام سرکاری زمینیں واگزار نہیں ہو جاتیں، یہ آپریشن بلا تعطل جاری رہے گا۔

شہریوں کو آگاہی اور خود مسماری کا انتباہ

عملی کارروائی کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی جانب سے شہر بھر میں اعلافی مہم بھی چلائی جا رہی ہے جس کے ذریعے شہریوں اور تاجروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود اپنے قائم کردہ تجاوزات کو مسمار کر دیں۔

انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ جو لوگ خود سے ناپائیدار تعمیرات اور تجاوزات نہیں ہٹائیں گے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور مسماری کے اخراجات کے ساتھ ساتھ ان سے بھاری جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو رضاکارانہ طور پر تعاون کی ترغیب دینا ہے۔

شہری اصلاحات، طرزِ حکمرانی اور انتظامی پائیداری

نئی صوبائی حکومتوں کا اقتدار سنبھالتے ہی تجاوزات کے خلاف فوری اور سخت اقدام اٹھانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت انتظامی اصلاحات اور قانون کی بالادستی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھنا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں:بدلتا، نکھرتا اور مضبوط خیبرپختونخوا قبضہ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، 13 سالہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں تیز

شہری علاقوں میں برسوں سے قائم غیر قانونی تجاوزات نہ صرف ٹریفک کی روانی اور عوام کی آمد و رفت میں بڑی رکاوٹ بنتی ہیں بلکہ اس سے اربوں روپے کے قومی اثاثے بھی ذاتی مفادات کی نذر ہو جاتے ہیں۔

تاہم اس قسم کی مسماری کی مہمات کی حقیقی کامیابی صرف سرکاری اراضی واگزار کرانے میں نہیں، بلکہ آپریشن کے بعد دوبارہ تجاوزات کو قائم ہونے سے روکنے کے لیے ایک مستقل، منظم اور یکساں پالیسی قائم کرنے میں مضمر ہے تاکہ شہری سہولیات کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

Related Articles