دبئی آنے والے سیاحوں کو جلد ایک انوکھا تجربہ مل سکتا ہے، جہاں وہ 24 قیراط سونے سے تیار کردہ واک وے پر چل سکیں گے۔ دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے مطابق، دنیا کی پہلی اور طویل ترین گولڈ واک وے کو رواں سال کے اختتام سے پہلے عوام کے لیے کھولنے کا منصوبہ ہے۔
اماراتی اخبار ’الامارات الیوم‘ کی 25 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ کے کمرشل ڈویژن کے سینئر ڈائریکٹر راشد الحرمودی نے بتایا کہ اس منفرد منصوبے کی تیاری جاری ہے اور اسے آئندہ دو ماہ کے اندر عوام کے لیے کھولنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد دبئی آنے والے سیاحوں اور مقامی شہریوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کرنا ہے، جہاں وہ سونے سے تیار کیے گئے راستے پر چل سکیں گے۔
سونے کی یہ سڑک کہاں بنائی جا رہی ہے؟
یہ منفرد واک وے دبئی کے علاقے دیرہ میں واقع دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ کا حصہ ہوگا۔ یہ علاقہ سونے، زیورات اور قیمتی دھاتوں کی تجارت کے لیے مشہور ہے۔ دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ کا باقاعدہ افتتاح جنوری 2026 میں کیا گیا تھا۔ اسی موقع پر دنیا کی پہلی گولڈ اسٹریٹ بنانے کے منصوبے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
دبئی میڈیا آفس کے مطابق، اس ڈسٹرکٹ میں1ہزار سے زائد کاروباری ادارے موجود ہیں، جہاں سونے اور زیورات کے علاوہ پرفیوم، کاسمیٹکس اور دیگر مصنوعات بھی فروخت کی جاتی ہیں۔
اس منصوبے کا مقصد دبئی کی سیاحتی شناخت کو مزید مضبوط بنانا اور شہر کو عالمی سطح پر سونے اور زیورات کی تجارت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر فروغ دینا ہے۔
کیا پوری سڑک خالص سونے سے بنے گی؟
انتظامیہ کے مطابق، اس واک وے میں 24 قیراط سونا استعمال کیا جائے گا۔ تاہم، ابھی تک اس کی تعمیر کے طریقہ کار، سونے کی مجموعی مقدار، راستے کی لمبائی اور منصوبے کی لاگت سے متعلق مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ راستے کی سطح پر سونا کس انداز میں استعمال ہوگا اور اس کی ساخت کیا ہوگی۔ لہٰذا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پوری سڑک ٹھوس خالص سونے سے تیار کی جائے گی۔
انتظامیہ اسے دنیا کی پہلی اور طویل ترین گولڈ واک وے قرار دے رہی ہے، تاہم اس دعوے کی مکمل تکنیکی تفصیلات بھی ابھی سامنے نہیں آئیں۔
دبئی میں سونے کی تجارت میں بھی اضافہ
رپورٹ کے مطابق، 2026 کے آغاز سے دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ میں سونے کی تھوک تجارت سے وابستہ نئے دفاتر کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ سونے، زیورات، قیمتی پتھروں اور لگژری گھڑیوں کی نئی دکانوں کی تعداد میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
راشد الحرمودی کے مطابق، علاقے میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے باعث مزید دفاتر اور دکانوں کی تعمیر اور توسیع کا کام جاری ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ اگلے سال گولڈ ڈسٹرکٹ میں منتقل ہونے والی کمپنیوں کی تعداد میں مزید 10 سے 20 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔
دبئی میڈیا آفس کے مطابق، متحدہ عرب امارات نے مالی سال 2024 سے 2025 کے دوران تقریباً 53.41 ارب ڈالر مالیت کا سونا برآمد کیا۔ سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، بھارت، ہانگ کانگ اور ترکی اس کی اہم تجارتی منڈیوں میں شامل ہیں۔
دبئی میں سونے سے تیار کردہ یہ منفرد واک وے سیاحوں کے لیے ایک نئی کشش بن سکتا ہے۔ تاہم، اس کے افتتاح کی حتمی تاریخ اور تعمیر سے متعلق مکمل تفصیلات کا اعلان ابھی باقی ہے۔