اقتدار گیا تو اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی ! فضل الرحمن اور جاوید ہاشمی کی مفاد پرست سیاست پر فیصل آباد کے عوام کی سخت تنقید

اقتدار گیا تو اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی ! فضل الرحمن اور جاوید ہاشمی کی مفاد پرست سیاست پر فیصل آباد کے عوام کی سخت تنقید

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی کی  اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی  اور سیاسی رویے پر فیصل آباد کے شہریوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ 

فیصل آباد کے شہریوں کا کہنا ہے کہ “خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے”،جاوید ہاشمی نے بھی فضل الرحمن کے رنگ ڈھنگ اپنا لیے ہیں ،  ان دونوں سیاستدانوں کی سیاست کا محور صرف اور صرف اپنا ذاتی اقتدار کا مفاد رہا ہے۔

فیصل آباد کے عوام نے واضح الفاظ میں کہا کہ جاوید ہاشمی اور مولانا فضل الرحمٰن دونوں ہی اب “چلے ہوئے کارتوس” بن چکے ہیں، جن کا عوام میں کوئی سیاسی مستقبل یا ووٹ بینک نہیں بچا۔

اب دونوں پاکستان کی جان چھوڑیں 

فیصل آباد کے عوام نے تیکھے انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کو اب سیاست سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ، شہریوں نے خاص طور پر جاوید ہاشمی کی بار بار پارٹیاں بدلنے کی تاریخ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ  دونوں کو اب کچھ نہیں ملنا ،خاص طور پر ہاشمی صاحب کو دیکھیں کہ کس طرح پیپلز پارٹی میں تھے پھر پارٹی بدلی اب ان دونوں کو چاہیے کہ پاکستان کی جان چھوڑ دیں اور سکون سے بیٹھیں ۔

یہ بھی پڑھیں : فضل الرحمان کو آخر ڈیزل کیوں کہا جاتا ہے ، کس نے اور کیوں یہ نام دیا؟ حقائق سامنے آگئے

اہلِ فیصل آباد کا کہنا تھا کہ جس حکمت عملی پر جاوید ہاشمی چل رہے ہیں، وہ بالکل مولانا فضل الرحمٰن سے ملتی جلتی ہے،  جب اپنے ذاتی مفادات چمکانے ہوں اور اقتدار میں جگہ چاہیے ہو، تو یہ حکومت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، لیکن جیسے ہی مفاد ختم ہوا، انہیں اچانک انقلاب اور نعرے بازی یاد آ جاتی ہے ، اس عمر میں انقلابی بن کر اداروں کے خلاف بیان بازی کرنا صرف اور صرف اپنی ذات اور گرتی ہوئی سیاست کو بچانے کی جنگ ہے۔

“ہر حکومت میں فٹ ہونے والے مولانا نیب کو جائیدادوں کا حساب دیں”

شہریوں نے مولانا فضل الرحمٰن کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے سیاستدان ہیں جو ماضی میں ہر حکومت کا حصہ بن کر فٹ ہو جاتے تھے لیکن موجودہ سیٹ اپ میں کوئی خاص حصہ یا مراعات نہ ملنے کی وجہ سے وہ اب ریاست اور اداروں کے خلاف ہو گئے ہیں۔

 شہریوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے نیب کی جانب سے طلب کی گئی اپنی جائیدادوں اور اثاثوں کا ابھی تک کوئی تسلی بخش جواب کیوں نہیں دیا؟

فیصل آباد کے عوام کا کہنا تھا کہ اقتدار سے باہر ہوتے ہی اداروں پر چڑھائی کرنا ان رہنماؤں کا پرانا حربہ ہے، جسے اب عوام اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور ان کی مفاد پرستی کی سیاست کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :سیاسی یتیمی اور اقتدار کی ہوس نے فضل الرحمن کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا، پاک افواج کیخلاف ہرزہ سرائی برداشت نہیں ! سرگودھا کے شہریوں کا شدید ردِعمل

فیصل آباد کے شہریوں نے واضح کیا کہ قوم اب ان دیرینہ مفاد پرست سیاست دانوں کے ڈراموں اور انقلابی نعروں سے بخوبی واقف ہو چکی ، قومی سلامتی، استحکام اور اداروں کی ساکھ سے کھیلنے والے ایسے تمام عناصر سے پہلے ان کے اثاثوں اور جائیدادوں کا پائی پائی حساب لیا جائے۔

editor

Related Articles