فرانس میں تعلیمی نظام میں اصلاحات، فنڈنگ کی کمی اور سہولیات کی عدم دستیابی پر حکومت اور طلبہ کے درمیان جاری تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
فرانسیسی طلبہ رہنماؤں نے تعلیمی بحران کے حل کے لیے حکومتی عہدیداروں کی جانب سے پیش کردہ تمام تجاویز اور پیکج کو قطعی ناکافی اور سطحی قرار دیتے ہوئے ملک گیر احتجاجی تحریک مسلسل جاری رکھنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق طلبہ تنظیموں کے نمائندوں اور اعلیٰ حکومتی حکام کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، اس مذاکراتی نشست کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلبہ رہنماؤں نے بتایا کہ حکومت نے چند مخصوص کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد محدود کرنے، اسکولوں کی پرانی عمارتوں کی تزئین و آرائش کے لیے قرضوں کی فراہمی اور یونیورسٹیوں میں داخلے کا مرکزی نظام تبدیل کرنے سمیت متعدد تجاویز سامنے رکھی ہیں۔
ہائی اسکول طلبہ کے مرکزی نمائندے لوئی لی توبلون (Louis Le Toblon) نے حکومتی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ طلبہ کے تمام بنیادی اور دیرینہ مطالبات کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تمام مسائل کا پائیدار حل سامنے نہیں آتا، احتجاجی مظاہرے، تعلیمی بائیکاٹ اور سڑکوں پر نکلنے کا سلسلہ نہیں رکے گا۔
دوسری جانب فرانسیسی حکومت کی طرف سے ان تجاویز کی فوری طور پر باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی، جبکہ ان کی تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھنے کے لیے طے شدہ اہم پریس کانفرنس بھی این موقع پر مؤخر کر دی گئی۔ اس تعلیمی پیکج پر اٹھنے والے مالیاتی اخراجات اور حکومتی بجٹ کی تفصیلات بھی فی الحال سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
واضح رہے کہ فرانس میں گزشتہ کئی ہفتوں سے ہزاروں طلبہ سڑکوں پر ہیں، جن کا احتجاج تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات، کلاس رومز میں رش، اسکولوں کی زبوں حال عمارتوں اور یونیورسٹیوں میں شفاف داخلوں کی پالیسی سے متعلق ہے ، طلبہ کا موقف ہے کہ حکومت کے یہ عارضی اقدامات ان کے مسائل کا دائمی حل نہیں ہیں، طلبہ کے سخت ردِعمل کے بعد تعلیمی ادارے مفلوج ہونے اور حکومت پر عوامی دباؤ میں شدید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔