کشمیر پر ناجائز بھارتی قبضے کو 79 سال گزر گئے، دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کا یومِ سیاہ، صدر، وزیراعظم کا حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ

کشمیر پر ناجائز بھارتی قبضے کو 79 سال گزر گئے، دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کا یومِ سیاہ، صدر، وزیراعظم کا حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے منگل کو بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف ’یومِ سیاہ‘ منایا، جبکہ پاکستانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

27 اکتوبر 1947 کا دن تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جب بھارتی افواج نے تقسیم ہند کے منصوبے اور کشمیری عوام کی امنگوں کے برعکس سرینگر میں اتر کر وادی پر غاصبانہ قبضہ کیا۔

اس تاریخی ناانصافی کے خلاف آل پارٹیز حریت کانفرنس کی اپیل پر مقبوضہ جموں کشمیر، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مظاہرے کیے گئے اور وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کا پیغام

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت 79 سال بعد بھی کشمیریوں کا جذبہ آزادی دبا نہ سکا، یومِ سیاہ پر وزیراعظم آزاد کشمیر کا پیغام

انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور ہر عالمی فورم پر ان کی آواز اٹھائے گا۔

صدر کا کہنا تھا کہ پچھلی 8 دہائیوں سے کشمیری شدید مظالم اور جبر کا شکار ہیں، لیکن ان کی جدوجہد اور قربانیاں لازوال ہیں۔

صدر زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا اور تمام مناسب بین الاقوامی فورمز پر ان کی جائز خواہشات کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دن محض یاد دہانی کا دن نہیں بلکہ تنازع کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کے عزم کی تجدید ہے۔

انہوں نے کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کا موقف مسئلہ کشمیر پر بالکل واضح اور اصولی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت نے یکطرفہ اقدامات کے ذریعے مقبوضہ علاقے کی آئینی، قانونی اور آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی مسلسل کوششیں کی ہیں۔

سیاسی رہنماؤں اور حریت پسندوں کی طویل قید اور بنیادی آزادیوں پر پابندیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی ورزی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قرار دادوں کے باوجود کشمیری عوام کو ان کا انفرادی اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دینے سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے۔

1947 میں بھارتی پیش قدمی نے اس خطے کو دائمی تنازع کی طرف دھکیل دیا، جس کے بعد سے نسل در نسل کشمیری اپنے بنیادی حقوق کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔

5 اگست 2019 کے فیصلے نے اس صورتحال کو مزید ابتر بنا دیا، جس کے تحت وادی کی خصوصی حیثیت ختم کر کے ڈیموگرافک تبدیلی کا عمل تیز کر دیا گیا۔

جیو پولیٹیکل منظرنامہ اور تجارتی چیلنجز

جنوبی ایشیا کا پائیدار امن اور خوشحالی براہ راست مسئلہ کشمیر کے حل سے منسلک ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور ایٹمی صلاحیت کی حامل 2 پڑوسی ریاستوں کے درمیان تعطل صرف سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پورے خطے کی اقتصادی اور سماجی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

مزید پڑھیں:کشمیرہماری یادوں سے نکلا نہ عزم سے،یومِ سیاہ پرگورنر خیبرپختونخوا کا کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی

جب تک اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق اس تنازع کا پرامن حل تلاش نہیں کیا جاتا، تب تک خطے میں دیرپا استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

Related Articles