خیبرپختونخوا میں امن بھی، ترقی بھی،سکیورٹی کے ساتھ ترقیاتی ایجنڈا بھی فعال،ہنگامی بنیادوں پر کام تیز کر دیا گیا

خیبرپختونخوا میں امن بھی، ترقی بھی،سکیورٹی کے ساتھ ترقیاتی ایجنڈا بھی فعال،ہنگامی بنیادوں پر کام تیز کر دیا گیا

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانے انتظامی معاملات میں بہتری لانے اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت کام شروع کر دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے معاملات چلانے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کرنے کے ساتھ 12 اضلاع کے انتظامی امور کے لیے الگ سیکریٹریٹ بھی تشکیل دیا گیا ہے، جسے سکیورٹی اور ترقیاتی ضروریات کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ 

حکومتی مؤقف کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی خراب صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات کے باعث غیر معمولی انتظامی اقدامات کی ضرورت پیش آئی۔ ایمرجنسی کے نفاذ کا مقصد ریاستی اداروں کے درمیان رابطہ مؤثر بنانا، دہشت گردی کے خلاف مربوط حکمتِ عملی اپنانا اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔

نئے انتظامی بندوبست کے تحت گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے، جس میں مختلف شعبوں کے تجربہ کار افراد کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ کونسل میں مالیات، تعلیم، صحت، توانائی، صنعت، معدنیات، قانون، داخلہ اور ترقیاتی امور سے متعلق ذمہ داریاں شامل ہیں۔ اس انتظام کا مقصد صوبائی امور کو چلانے کے ساتھ مختلف شعبوں میں انتظامی اور پالیسی سطح پر بہتری لانا بتایا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول اور ڈیزل سستا کرنے کا معاملہ، وزیراعظم اور امیر جماعت اسلامی کے درمیان آج مذاکرات ہوں گے

حکومت کی جانب سے 12 اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اس انتظام کے ذریعے ان اضلاع کے انتظامی اور ترقیاتی معاملات پر براہِ راست توجہ دینے، مقامی ضروریات کی نشاندہی کرنے اور متعلقہ محکموں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ ان علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال کے باعث ترقیاتی منصوبوں کی رفتار، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی خصوصی اہمیت رکھتی ہے

ایمرجنسی اور گورنر راج کے حامی مؤقف کے مطابق امن و امان کی بحالی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی پر قابو پانے سے شہریوں کے تحفظ، کاروباری سرگرمیوں اور سرکاری منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ترقیاتی فنڈز کا مؤثر استعمال، منصوبوں کی نگرانی اور انتظامی فیصلوں پر بروقت عمل درآمد یقینی بنایا جائے تو پسماندہ اور متاثرہ اضلاع میں عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

نئے انتظامی سیٹ اپ میں مالیات، صحت، تعلیم، توانائی، معدنیات اور مواصلات جیسے شعبوں کی نمائندگی بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ توجہ صرف امن و امان تک محدود نہیں بلکہ صوبے کے انتظامی اور معاشی معاملات بھی نئے بندوبست کا حصہ ہیں۔ تاہم ان اقدامات کے عملی نتائج کا اندازہ اسی وقت لگایا جا سکے گا جب ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، فنڈز کے استعمال، عوامی سہولتوں اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی سے متعلق قابلِ تصدیق اعداد و شمار سامنے آئیں گے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles