پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مدابرانہ سفارتکاری کے باعث اسرائیل کے لیے جو منظر کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا، وہ تہران میں حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔
بہترین سفارتکاری کے باعث پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے اعلیٰ ترین نمائندے ایک ہی کمرے میں باہمی اتحادیوں کی طرح بیٹھ کر خطے کے مستقبل پر غوروخوض کر رہے ہیں۔
4 رکنی تہران اجلاس اور اسٹرٹیجک اہمیت
قومی میڈیا کے اداریوں میں لکھا جا رہا ہے کہ تہران میں منعقد ہونے والا یہ 4 ملکی اجلاس محض ایک سفارتی بیٹھک نہیں بلکہ مکہ دفاعی معاہدے کے بعد خطے کا سب سے بڑا اسٹرٹیجک موڑ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دہائیوں سے تقسیم، سیاسی چپقلش اور بیرونی طاقتوں کی سازشیں ان چاروں اہم ممالک کو ایک دوسرے سے دور رکھتی چلی آ رہی تھیں، مگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاؤشوں کے نتیجے میں موجودہ بحران نے ان تمام رکاوٹوں کو پاش پاش کر دیا۔
سی آئی اے اور موساد کی جانب سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے اور فالس فلیگ آپریشنز کا بنیادی مقصد ہمیشہ سے تہران اور ریاض کے درمیان خلیج کو وسیع رکھنا رہا ہے، تاکہ مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ غیر مستحکم رہے۔
آج ان تمام حربوں کو ناکام بناتے ہوئے خطے کی ان بنیادی طاقتوں کا ایک چھت کے نیچے جمع ہونا صیہونی ریاست اور اس کے سرپرستوں کے لیے سب سے بڑا اسٹرٹیجک دھچکا ہے۔
پاکستان کی پسِ پردہ کامیاب سفارتی کوششیں
اس تاریخی پیش رفت کے پس منظر میں پاکستان کی مسلسل اور مخلصانہ سفارتی کاؤشیں کارفرما ہیں۔
ان کاؤشوں میں سپہ سالار پاکستان فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مرکزی کردار ادا کیا، اسلام آباد نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے پس منظر میں پیدا ہونے والے تعطل کے باوجود خطے میں مصالحت کا دامن نہیں چھوڑا اور تمام فریقین کو ایک میز پر لانے کے لیے جو کردار ادا کیا، وہ خطے میں امن کے لیے اس کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اگرچہ ایک ہی ملاقات دہائیوں پر محیط کشیدگی اور غلط فہمیوں کو پل بھر میں ختم نہیں کر سکتی، لیکن اس اتحاد کے بیج بو دیے گئے ہیں جو آنے والے وقتوں میں خطے کو بیرونی محتاجی سے نجات دلانے کا سبب بنیں گے۔
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے اس نئے گٹھ جوڑ کی بنیاد دراصل اس مشترکہ احساس پر رکھی گئی ہے کہ خطے کی تقدیر اب بیرونی طاقتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔
ماضی میں غیر ملکی ایجنسیوں نے مسلم دنیا کے انمٹ اختلافات کو ہوا دے کر ہمیشہ اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔
تاہم غزہ سے لے کر خلیج تک کے حالیہ دلخراش حالات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر یہ چاروں طاقتیں، یعنی پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران اختلافات کو بھلا کر ایک سیکیورٹی فریم ورک کے تحت اکٹھی ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔
اس اتحاد کی مضبوطی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اس ابتدائی پود کو ایک تناور درخت میں کیسے بدلتے ہیں۔
علاقائی استحکام اور مستقبل کا لائحہ عمل
اس اتحاد کا پروان چڑھنا خطے کے لیے خود کفالت اور حقیقی خودمختاری کا ضامن بن سکتا ہے۔ جب تک خطے کے فیصلے واشنگٹن یا تل ابیب کے دارالحکومتوں میں ہوتے رہیں گے، خونریزیاں ختم نہیں ہو سکتیں۔
تہران کا یہ اجلاس اس امر کا غماز ہے کہ اب علاقائی ممالک نے اپنی سیکیورٹی کی ترجیحات خود طے کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔
پاکستان کو اس عمل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ یہ تاریخی سنگِ میل مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، خوشحالی اور دائمی استحکام کی نوید ثابت ہو سکے۔