اقتدار کے بھوکے، جو خود اخلاقیات سے عاری ہوں وہ قوم کو کیا درس دیں گے! گجرات کے شہری فضل الرحمن پر پھٹ پڑے

اقتدار کے بھوکے، جو خود اخلاقیات سے عاری ہوں وہ قوم کو کیا درس دیں گے! گجرات کے شہری فضل الرحمن پر پھٹ پڑے

 مولانا فضل الرحمن کے پارلیمنٹ میں تضحیک آمیز بیان پر عوامی حلقوں اور بالخصوص گجرات کے شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے،  شہریوں نے ماں جیسے عظیم اور مقدس رشتے کی توہین پر جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے آئین، قانون اور اخلاقی حدود کی پامالی پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ 

آزاد ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں شہریوں کا کہنا تھا کہ ایک ایسے منصب پر فائز شخص جو خود کو دین اور شریعت کا علمبردار کہلاتا ہے، اگر اس کے منہ سے ماں جیسے عظیم ترین رشتے کے خلاف ایسے غلیظ الفاظ نکلیں، تو یہ نہ صرف اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے بلکہ ریاست اور معاشرتی اقدار کی کھلم کھلا توہین ہے۔

گجرات کے شہریوں کا کہنا تھا کہ جو خود اخلاقیات سے عاری ہوں، وہ قوم کی رہنمائی کے لائق نہیں ، اسلام ماں کے قدموں میں جنت کی نوید سناتا ہے، لیکن اقتدار اور سیاست کی ہوس میں اندھے ہونے والے نام نہاد علمائے دین اب گالی گلوچ اور اخلاقی پستی کو اپنا شعار بنا چکے ہیں۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ  ایسے عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے جو ملک کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں بیٹھ کر زبان بندی کے تمام اخلاقی اصول توڑتے ہیں اور معاشرے میں فحش بیانی کو فروغ دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : فضل الرحمان کے قریبی اتحادی مفتی ابرار سے منسوب حج ٹور آپریٹرز کوسیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے شوکاز نوٹس جاری

عوام کا کہنا ہے کہ جو شخص اپنے ذاتی مفادات کے لیے ہر حکومت کے ساتھ گھنٹوں میں پلٹا کھا سکتا ہے اور جو دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے کا دعویدار ہو، جب وہ خود ماں جیسی ہستی کے بارے میں نازیبا کلمات کہے تو اس کی دینداری اور سیاست دونوں بے نقاب ہو جاتی ہیں۔

 گجرات کے باسیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست کو ایسے تمام سیاست دانوں کے خلاف جو ملکی اخلاقیات اور روایات کو روندتے ہیں، سخت سے سخت قانونی ایکشن لینا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرنے کی جرات نہ کر سکے۔

گجرات کے شہریوں کے اس شدید ردعمل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عوام اب ایوانوں میں بیٹھ کر اخلاقیات اور اقدار کا جنازہ نکالنے والے سیاست دانوں کو معاف کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں،  نام نہاد مذہبی اور سیاسی رہنمائوں کی اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ زبان نہ صرف معاشرتی تانے بانے کو تباہ کرتی ہے بلکہ آئین اور قانون کی حکمرانی پر بھی سوالیہ نشان قائم کرتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست ایسے عناصر کا سخت محاسبہ کرے تاکہ پارلیمنٹ کے تقدس اور سماجی حرمتوں کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔

editor

Related Articles