پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی قیادت کی جانب سے ریاستی اداروں، تفتیشی ایجنسیوں اور عدلیہ کو بلیک میل کرنے اور اپنے حق میں فیصلے کرانے کے لیے چلایا جانے والا دوغلا پروپیگنڈا ایک بار پھر عوامی عدالت میں بری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔ نو مئی کے سنگین ترین مقدمات، بشمول مسلم لیگ (ن) کا آفس جلانے اور کلمہ چوک پر کنٹینر کو نذرِ آتش کرنے جیسے دہشت گردی کے چھ مقدمات میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) کی جانب سے باضابطہ طور پر “گناہگار” قرار دیے جانے کے باوجود پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو انسدادِ دہشت گردی عدالت سے ایک بار پھر عبوری ضمانتوں میں توسیع کا بڑا ریلیف حاصل ہو گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ کیس تحریک انصاف کے اس دہرے معیار کی سب سے بڑی اور زندہ مثال ہے جس کے تحت جب بھی عدالتیں قانون کے مطابق ان کے خلاف کوئی فیصلہ دیں تو یہ پوری عدلیہ اور ججز کے خلاف غداری اور جانبدار ہونے کا تیکھا پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں، لیکن جب تفتیشی رپورٹوں میں گناہگار ثابت ہونے کے باوجود انہیں انہی عدالتوں سے ریلیف ملتا ہے تو یہ قانون کی بالادستی اور اداروں کے اس تحفظ پر مہرِ خاموشی لگا لیتے ہیں۔
لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ملک عابد حسین نے نو مئی کے چھ مختلف مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کی عبوری ضمانتوں پر سماعت کی۔ اس موقع پر جے آئی ٹی کے تفتیشی افسران نے عدالت کے سامنے اپنی حتمی تفتیشی رپورٹ پیش کی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خانم اور عظمیٰ خانم سمیت تمام نامزد ملزمان کو توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے کا باضابطہ گناہگار قرار دیا گیا ہے۔
سابق وفاقی وزیر اسد عمر، فواد چوہدری، مسرت جمشید چیمہ، اور جمشید اقبال چیمہ حاضری کے لیے پیش ہوئے۔اعظم خان سواتی اور حافظ فرحت عباس بھی عدالت کے روبرو حاضر ہوئے۔علیمہ خانم اور عظمیٰ خانم خود پیش نہیں ہوئیں، بلکہ ان کے وکیل مدثر چوہدری نے نمائندگی کی۔
عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ملزمان کے وکلاء سے ضمانتوں پر حتمی دلائل طلب کرتے ہوئے ان کی عبوری ضمانتوں میں 8 دسمبر تک توسیع کر دی ہے۔
عوامی اور قانونی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے ہمیشہ یہ وتیرہ اپنایا ہے کہ جب بھی ٹرائل کے دوران کسی بھی کیس میں سچائی سامنے آنے لگتی ہے یا فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف آنے کا امکان ہوتا ہے، تو یہ اچانک چیخ اٹھتے ہیں اور ججز پر دباؤ ڈالنے کے لیے سوشل میڈیا پر منظم مہم شروع کر دیتے ہیں۔
رائے حسن نواز، بلال اعجاز، علی امتیاز وڑائچ، محمد احمد چٹھہ اور رائے مرتضیٰ اقبال سمیت جن درجنوں رہنماؤں نے ضمانتیں لے رکھی ہیں، یہ سب تفتیش میں قصوروار پائے جانے کے باوجود عدالتی عمل کا پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کیس نے پی ٹی آئی کے اس پروپیگنڈے کی دھجیاں اڑا دی ہیں کہ ان کے خلاف کوئی “یکطرفہ کارروائی” ہو رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ باہر بیٹھ کر اداروں پر الزام لگاتے ہیں اور اندرونِ خانہ انہی اداروں کی دی گئی قانونی رعایتوں کے مزے لوٹتے ہیں۔
اگرچہ عدالت نے دلائل طلب کرتے ہوئے ملزمان کو دسمبر تک کی مہلت فراہم کر دی ہے تاہم جے آئی ٹی رپورٹ میں ناقابلِ تردید شواہد کی موجودگی نے ملزمان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تحریک انصاف کی یہ دوغلی پالیسی کہ “میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو” اب عوام کے سامنے آ چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 8 دسمبر کو جب وکلاء گناہگار قرار دیے جانے والے ملزمان کے حق میں دلائل دیں گے، تو قانون کا فولادی ہتھوڑا ان سیاسی پروپیگنڈا کرنے والوں پر کس طرح برستا ہے۔