پاکستان اور روس نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو عملی کاروباری منصوبوں میں تبدیل کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں ممالک کی کمپنیاں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر کام کریں گی۔
اس حوالے سے بدھ کو اسلام آباد میں پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی تعاون سے متعلق ایک آن لائن سیمینار منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز نے کیا۔ سیمینار میں روسی ماہرین نے بھی ماسکو سے شرکت کی۔
6اہم شعبوں میں تعاون کا منصوبہ
سیمینار میں دونوں ممالک کے نمائندوں نے 6 شعبوں میں مشترکہ کام پر توجہ دی، جن میں مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل گورننس، آئی ٹی سروسز کی تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت اور کوانٹم کمپیوٹنگ شامل ہیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ مشترکہ کاروباری منصوبے شروع کریں، نئی ٹیکنالوجی کے تجرباتی منصوبے تیار کریں اور ایک دوسرے کی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کریں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال 75 ہزار سے زائد آئی ٹی گریجویٹس تیار ہوتے ہیں، جبکہ حکومت کا ہدف 2030 تک 10 لاکھ افراد کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دینا ہے۔ اس مقصد کے لیے ملک میں سات نئے اے آئی مراکز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان اور روس کی کمپنیاں کیا کریں گی؟
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو فیصل جیدی کے مطابق سیمینار میں شریک ہر کمپنی کے لیے تعاون کا ایک واضح موقع، متعلقہ شراکت دار اور آئندہ اقدامات طے کرنے پر زور دیا گیا۔
پاکستانی کمپنی ایبرکس، روس کی پازیٹو ٹیکنالوجیز، ٹی ایم سی اور روسی کوانٹم سینٹر سمیت مختلف اداروں نے سائبر سکیورٹی، انٹرپرائز سافٹ ویئر، مالیاتی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی مصنوعات مشترکہ طور پر تیار کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
ان منصوبوں کے ذریعے پاکستان اور روس کے علاوہ دیگر ممالک کی مارکیٹوں تک بھی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کے لیے کیا اہمیت ہے؟
پاکستان کے آئی ٹی اور ٹیلی کام شعبے کی برآمدات مالی سال 2025 اور 2026 میں ریکارڈ 4 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہیں۔
آئی ٹی سیکریٹری ضرار ہاشم خان کے مطابق مذاکرات کے نتیجے میں مشترکہ منصوبوں کے لیے کئی ممکنہ مواقع کی فہرست تیار کی گئی ہے۔ وزارت متعلقہ قواعد و ضوابط کی رکاوٹیں دور کرنے میں مدد دے گی تاکہ ابتدائی تجرباتی منصوبوں پر جلد کام شروع کیا جا سکے۔
اس تعاون کو پاکستان کے لیے روسی مارکیٹ تک رسائی، نئی ٹیکنالوجی کے حصول اور آئی ٹی برآمدات میں اضافے کے ایک ممکنہ موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔