دوسروں کا احتساب کرنیوالے جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے قریبی اتحادی مفتی ابرار کے خاندان اور ان کے ساتھیوں سے منسوب 3 حج کمپنیوں کے خلاف سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (‘ایس ای سی پی’) نے شکنجہ کس لیا ۔
ایس ای سی پی نے ملکیتی حقائق چھپانے اور قانونی تقاضوں سے انحراف پر 14 روز کے اندر مفتی ابرار سے جواب طلب کر لیا ہے۔
ملکیتی ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیاں
فضل الرحمن کے قریبی اتحادی مفتی ابرار کے خاندان اور ساتھیوں سے منسوب ال عفو منظم کی تین متعلقہ کمپنیوں کے ملکیتی ریکارڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ، مفتی ابرار سے منسوب سجاد ٹریولز، ال رحاب انٹرنیشنل اور شکر الفیضان ٹریولز کو ایس ای سی پی نے شوکاز نوٹس جاری کیے ۔
حج کمپنیوں کو شوکاز
مفتی ابرار سے منسوب حج ٹور آپریٹرز کو حقیقی مالکان کی معلومات جمع نہ کرانے پر ایس ای سی پی نے وضاحت طلب کرنے کے نوٹس جاری کر دیے ، مفتی ابرار سے منسوب شکر الفیضان ٹریولز کو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت قانونی تقاضوں کی مبینہ عدم تعمیل پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ۔
مفتی ابرار سے منسوب ال رحاب انٹرنیشنل کو سال 2023 کے لیے حقیقی مالکان کی مطلوبہ معلومات جمع نہ کرانے پر نوٹس جاری ہوا ، مفتی ابرار سے منسوب سجاد ٹریولز اینڈ ٹورز کو حقیقی مالکان کا مطلوبہ ریکارڈ جمع نہ کرانے پر ایس ای سی پی نے شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔
ایس ای سی پی نے مفتی ابرار سے منسوب تین حج ٹور کمپنیوں کو 14 روز میں وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
فضل الرحمان کے قریبی اتحادی مفتی ابرار سے منسوب حج ٹور آپریٹرز کو ایس ای سی پی کے نوٹس، ملکیتی معلومات میں بے ضابطگیوں پر جواب طلب کرلیا گیا ہے ۔
حج کارپوریٹ سیکٹر اور اینٹی منی لانڈرنگ ضوابط
واضح رہے کہ پاکستان میں مذہبی سفر خصوصاً حج و عمرہ کے کاروبار میں مالیاتی شفافیت قائم رکھنا قانونی طور پر انتہائی حساس ترین معاملہ ہے ، ‘کمپنیز ایکٹ 2017’ کے تحت ملک میں رجسٹرڈ تمام اداروں کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ اپنے اصل نفع بخش مالکان (Beneficial Owners) کا شفاف ترین ریکارڈ رکھیں ، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (‘ایف اے ٹی ایف’) کی کڑی شرائط کے باعث ‘اینٹی منی لانڈرنگ’ کے تحت ملکیتی ڈیٹا نہ دینے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے، اثاثے منجمد کرنے اور لائسنس کی منسوخی جیسے سنگین اقدامات نافذ کیے جاتے ہیں۔
سیاسی و مذہبی لبادے اوڑھ کر اسے دوسروں کے مالیاتی ریکارڈ اور احتساب کا مطالبہ کرنے والی قیادت کے اپنے اندرونی حلقے سے ایسی بے ضابطگیاں سامنے آنا شدید سیاسی و اخلاقی زوال کی نشاندہی کرتا ہے ، فضل الرحمن جو دوسروں کے احتساب کی باتیں کرتے ہیں اپنے ساتھیوں کے کالے کارناموں کا حساب کیسے دین گے ؟