خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں 13 کروڑ 50 لاکھ روپے کینولا خریداری کا معاملہ، ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی فیل رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں 13 کروڑ 50 لاکھ روپے کینولا خریداری کا معاملہ، ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی فیل رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

خیبر ٹیچنگ ہسپتال (KTH) پشاور میں طبی آلات کی خریداری کا ایک سنگین اور بڑا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر 13 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کے آئی وی کینولا (IV Cannula) کی خریداری اور اس کے معیار پر شدید سوالات اٹھ گئے ہیں۔

فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے زیرِ استعمال کینولا کو معیار کے مطابق قرار نہیں دیا جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کے رجسٹریشن ریکارڈ سے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے کہ سپلائر کمپنی کے پاس جس قسم کے کینولا کی رجسٹریشن موجود تھی ہسپتال کو فراہم کردہ کینولا اس سے مختلف ڈیزائن کا تھا ۔

معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ عاقب ٹریڈنگ کمپنی کے حوالے سے ڈریپ کے فارم 8-A میں سنگل یوز ’’سٹریٹ ٹائپ‘‘ آئی وی کینولا کی رجسٹریشن، لائسنس نمبر ELI-00628، درج ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ ہسپتال کو مبینہ طور پر انجیکشن پورٹ اور سٹاپر والا کینولا فراہم کیا گیا۔

اس تضاد نے کمپنی کی رجسٹریشن، فراہم کردہ طبی آلات کی قانونی حیثیت اور خریداری کے عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں،  دستیاب معلومات کے مطابق ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ میں کینولا کو مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والا قرار دیا گیا ہے۔

اگر رپورٹ میں درج نتائج کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ معاملہ محض خریداری میں بے ضابطگی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مریضوں کو فراہم کیے جانے والے طبی آلات کے معیار اور ان کی حفاظت کا بھی اہم مسئلہ بن جائے گا ، تاہم رپورٹ کے مکمل مندرجات، نمونے کی شناخت، ٹیسٹ کے نتائج اور کینولا کے مریضوں پر استعمال سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے ، ہسپتال ذرائع کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر سجاد اور میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر اویس نعیم کے دور میں کوٹیشن اور ٹینڈر کے ذریعے مذکورہ خریداری کی گئی اور ایک مخصوص سپلائر کو فائدہ پہنچایا گیا۔ ذرائع کے مطابق خریداری کی مجموعی مالیت 13 کروڑ 50 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔

معاملے سے جڑے اہم سوالات 

 ان الزامات کی سرکاری سطح پر تصدیق اور متعلقہ افسران کا مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے،  اس معاملے میں چند بنیادی سوالات جواب طلب ہیں: کیا خریداری کے وقت سپلائر کے لائسنس اور رجسٹریشن کی مکمل جانچ کی گئی کیا ٹینڈر میں طلب کردہ کینولا اور فراہم کردہ کینولا کی تکنیکی خصوصیات ایک جیسی تھیں؟ کیا سامان وصول کرنے سے پہلے اس کا معیار جانچا گیا اگر لیبارٹری رپورٹ میں کینولا معیار سے کم ثابت ہوا تو اس کی فراہمی اور استعمال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور سب سے اہم یہ کہ 13 کروڑ 50 لاکھ روپے کی خریداری میں سرکاری خزانے کو کسی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا یا نہیں؟

خیبر ٹیچنگ ہسپتال جیسے بڑے تدریسی اور علاج معالجے کے مرکز میں طبی آلات کی خریداری معمول کی انتظامی کارروائی نہیں بلکہ براہ راست مریضوں کی زندگی اور صحت سے جڑا معاملہ ہے آئی وی کینولا مریضوں کو ادویات اور سیال مادے فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کے معیار، رجسٹریشن اور تکنیکی خصوصیات میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کو معمولی معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی خریداری کمیٹی، ٹینڈر دستاویزات، سپلائر کی رجسٹریشن، سامان کی وصولی، ادائیگیوں اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ کا ایک ہی انکوائری میں جائزہ لیا جائےیہ بھی واضح کیا جائے کہ آیا مبینہ طور پر غیر متعلقہ رجسٹریشن کے تحت مختلف ڈیزائن کا کینولا فراہم کیا گیا اور اگر ایسا ہوا تو اس کی منظوری کس افسر نے دی

editor

Related Articles