امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک بار پھر بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اقدامات نہ کرتے تو آج اسرائیل اور پورا مشرق وسطیٰ دنیا کے نقشے پر موجود نہ ہوتے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا انتہائی اہم تھا، کیونکہ ایسا نہ کیا جاتا تو خطے کی صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں، لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں ایران کے جوہری پروگرام کو اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے اپنی پالیسی اور اقدامات کا دفاع کیا،دوسری جانب ایران کے ساتھ جنگ کے سیاسی اثرات خود امریکی صدر کی جماعت ریپبلکن پارٹی کے لیے مشکلات کا باعث بنے ہیں۔
ٹرمپ گزشتہ دنوں اعتراف کر چکے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ کی عوامی سطح پر غیر مقبولیت اور اس کے نتیجے میں عالمی مہنگائی میں اضافے نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بھاری شکست میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ جنگ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی ناکامی کی بڑی وجوہات میں شامل تھی۔
یوں ایک طرف ٹرمپ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کے اپنے اقدامات کو اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں، تو دوسری جانب اسی جنگ کے سیاسی اور معاشی اثرات امریکی حکومت اور ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔