سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے سے متعلق اہم قانونی اصول واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ضمانت کی رعایت کے غلط استعمال، گواہوں پر دباؤ ڈالنے، تفتیش میں مداخلت، فرار ہونے کے خدشے یا نئے شواہد سامنے آنے کی صورت میں ضمانت منسوخ کی جاسکتی ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر کے تحریر کردہ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی ملزم کو ضمانت ملنے اور اس کی ضمانت منسوخ کرنے کے قانونی معیارات مختلف ہیں۔ ایک مرتبہ ضمانت ملنے کے بعد محض غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر ملزم کی آزادی ختم نہیں کی جاسکتی۔
عدالت عظمیٰ نے لاڑکانہ میں بجلی کی غیر قانونی فراہمی کے دوران ایک شہری کی ہلاکت سے متعلق مقدمے میں سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے ملزم علی اصغر کھوکھر کو دی گئی ضمانت برقرار رکھنے کے معاملے پر یہ قانونی نکات واضح کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن کو وفاقی آئینی عدالت سے منہ کی کھانی پڑی، مخصوص نشستوں کے تنازعے پر جے یو آئی کی اپیل عبرت ناک طور پر خارج
ضمانت منسوخی کے 8 اہم قانونی نکات
سپریم کورٹ کے فیصلے میں بیان کردہ قانونی بنیادوں کو درج ذیل آٹھ نکات میں واضح کیا جاسکتا ہے:
-
غیر قانونی حکم: اگر ضمانت منظور کرنے کا حکم واضح طور پر غیر قانونی ہو یا مسلمہ قانونی اصولوں کے خلاف دیا گیا ہو تو ضمانت منسوخ کی جاسکتی ہے۔
-
غلط حقائق اور ناانصافی: اگر ضمانت کا فیصلہ حقائق کے اعتبار سے غلط ہو اور اس کے نتیجے میں انصاف متاثر ہوا ہو تو یہ منسوخی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
-
ضمانت کی رعایت کا ناجائز استعمال: اگر ملزم ضمانت پر رہائی کے بعد حاصل ہونے والی رعایت کا غلط استعمال کرے تو اس کی ضمانت منسوخ کی جاسکتی ہے۔
-
گواہوں پر دباؤ اور شواہد پر اثرانداز ہونا: اگر ملزم استغاثہ کے گواہوں کو دھمکانے، دباؤ ڈالنے یا ان پر اثرانداز ہوکر مقدمے کے شواہد متاثر کرنے کی کوشش کرے تو ضمانت منسوخ ہوسکتی ہے۔
-
ملزم کے فرار ہونے کا خدشہ: اگر اس بات کا امکان ہو کہ ملزم عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر فرار ہوجائے گا تو ضمانت کی منسوخی کی بنیاد موجود ہوسکتی ہے۔
-
تفتیش میں مداخلت: اگر ملزم تحقیقات کے شفاف اور بلاتعطل عمل میں رکاوٹ ڈالنے یا مداخلت کرنے کی کوشش کرے تو ضمانت منسوخ کی جاسکتی ہے۔
-
دوبارہ اسی نوعیت کے جرم کا ارتکاب: اگر ملزم ضمانت پر حاصل آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسی نوعیت کے کسی دوسرے جرم میں ملوث ہوجائے تو یہ بھی منسوخی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
-
نئے حقائق اور شواہد سامنے آنا: اگر دورانِ تفتیش ایسے نئے حقائق یا شواہد سامنے آئیں جو ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کی نشاندہی کرتے ہوں تو ضمانت منسوخ کی جاسکتی ہے۔
لاڑکانہ میں بجلی کی تار ٹوٹنے سے شہری کی ہلاکت کا مقدمہ
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق 3 مارچ 2024 کو لاڑکانہ کے تھانہ رحمت پور کی حدود میں بجلی کی غیر قانونی فراہمی کے دوران تار ٹوٹنے سے نور حسین نامی شخص جاں بحق ہوگیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق ڈسپوزل فیز سے خصوصی بجلی لائن کھینچ کر دکانوں کو بجلی فراہم کی جارہی تھی کہ اس دوران بجلی کی تار ٹوٹنے سے حادثہ پیش آیا۔
سیشن جج لاڑکانہ نے 30 جنوری 2025 کو مقدمے میں نامزد ملزم علی اصغر کھوکھر کی قبل از گرفتاری ضمانت مسترد کردی تھی۔
بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ کے سرکٹ کورٹ لاڑکانہ نے 20 اکتوبر 2025 کو ایف آئی آر کے اندراج میں 9 ماہ کی تاخیر اور دیگر قانونی وجوہات کی بنیاد پر ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔
سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف ضمانت منسوخ کروانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔
عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں 9 ماہ کی تاخیر اور مقدمے میں ملزم کے کردار سے متعلق معاملات مزید تحقیق کے متقاضی ہیں۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران درخواست گزار نے مقدمے کی کارروائی جاری ہونے کے باعث ضمانت منسوخی کی درخواست پر مزید اصرار نہیں کیا، جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے درخواست نمٹاتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے ضمانت دینے کے حکم میں مداخلت نہیں کی۔
بجلی چوری اور غیر قانونی فراہمی میں ملوث افراد کے کردار کا جائزہ لینے کی ہدایت
سپریم کورٹ نے مقدمے میں بجلی کی غیر قانونی فراہمی، بجلی چوری اور نجی طور پر بجلی کی غیر قانونی منتقلی کے معاملے پر بھی اہم ہدایات جاری کیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ واپڈا اور متعلقہ یوٹیلیٹی کمپنی اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیں۔
سپریم کورٹ نے فیصلے کی نقل چیئرمین واپڈا کو معلومات کے لیے ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ فیصلے میں دیے گئے مشاہدات زیرِ سماعت فوجداری مقدمے میں کسی فریق کے حقوق کو متاثر نہیں کریں گے اور ٹرائل کورٹ مقدمے کا فیصلہ شواہد اور قانون کے مطابق کرے گی۔
