آزاد ڈیجیٹل کے دفتر میں جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کرنے والے دو مشکوک افراد کی آمد کے بعد ادارے نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 6 نومبر کو دو افراد الگ الگ اوقات میں دفتر پہنچے اور وہاں تعینات سیکیورٹی گارڈ سے ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مصور حسین عباسی کی موجودگی کے بارے میں دریافت کرتے رہے۔
ان افراد کی آمد کے اوقات صبح 10 بج کر 11 منٹ اور 10 بج کر 41 منٹ ریکارڈ کیے گئے۔ سی ای او کی عدم موجودگی پر دونوں افراد دوبارہ آنے کا کہہ کر واپس روانہ ہوگئے۔
دفتر آنے والے افراد نے خود کو جمعیت علمائے اسلام (ف) سے وابستہ ظاہر کیا، تاہم ان کی شناخت، جماعت سے حقیقی وابستگی اور دفتر آنے کے مقصد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ادارے نے دونوں افراد کی غیر متوقع آمد، سی ای او کی موجودگی کے بارے میں پوچھ گچھ اور دوبارہ آنے کی بات پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
یہ واقعہ ادارے کی صحافتی سرگرمیوں پر دباؤ ڈالنے یا اسے خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے۔واقعے سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دے دی گئی ہے تاکہ دونوں افراد کی شناخت، ان کی ممکنہ سیاسی وابستگی اور دفتر آنے کے اصل مقصد کا تعین کیا جاسکے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے دونوں افراد حلیے سے انتہائی مشکوک نظر آ رہے تھے ۔ ان دونوں مشکوک افراد نے اپنا تعلق جمعیت علما اسلام سے تسلی سے بتایا جسکا مطلب ہے کے ان غنڈوں کو فضل الرحمان یا اسکے بیٹے اسد محمود نے بھیجا تھا تاکہ میڈیا پلیٹ فارم کو ڈرایا دھمکایا جا سکے
اس واقعے کی اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دے دی گئی ہے اور کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی صورت میں تمام ذمہ داری فضل الرحمان، اسد محمود اور فضل الرحمان کے بھائیوں پر ہوگی اور ادارہ انکے خلاف قانونی کاروائی کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے