فضل الرحمان خود کو ’ٹچ می ناٹ‘ سمجھتے ہیں،مگر ریاست انہیں ڈیل کرنے کا طریقہ جانتی ہے،سینئر صحافی عارف یوسفزئی

فضل الرحمان خود کو ’ٹچ می ناٹ‘ سمجھتے ہیں،مگر ریاست  انہیں ڈیل کرنے کا طریقہ جانتی ہے،سینئر صحافی  عارف یوسفزئی

 سینئر صحافی اور تجزیہ کار عارف یوسفزئی نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان خود کو ایسی شخصیت سمجھتے ہیں جس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا، تاہم اسٹیبلشمنٹ انہیں اچھی طرح جانتی ہے اور مولانا سے نمٹنے کا طریقہ بھی اس کے پاس موجود ہے۔

آزاد ڈیجیٹل کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے عارف یوسفزئی نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے مولانا فضل الرحمان کے سیاسی رویے اور تیور بدلے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق مولانا کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کو روایتی طریقوں کے بجائے مختلف حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

عارف یوسفزئی کا کہنا تھا کہ یہ سمجھنا درست نہیں کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری یا مریم نواز کی طرح معاملات طے کرکے انہیں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹایا جاسکتا ہے۔ مولانا کے سیاسی رویے اور طرزِعمل کو دیکھتے ہوئے ان سے نمٹنے کے لیے الگ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

سینئر صحافی نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اور فوج مولانا فضل الرحمان کے ساتھ طویل عرصے سے معاملات کرتی آئی ہیں، اس لیے وہ ان کے سیاسی مزاج اور معاملات کو بہتر انداز میں سمجھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اسٹیبلشمنٹ کے پاس مولانا فضل الرحمان کے ساتھ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کا حل بھی ہونا چاہیے۔

عارف یوسفزئی نے مولانا فضل الرحمان پر لگنے والے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے الزامات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ان کے بقول ان کے نتیجے میں مولانا کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان خود کو پاکستان میں ایک ایسی شخصیت تصور کرتے ہیں جسے کوئی چھو نہیں سکتا۔ ان کے مطابق مولانا اپنے آپ کو ان افراد کی صف میں شمار کرتے ہیں جنہیں سیاسی طور پر ناقابلِ گرفت یا ’ٹچ می ناٹ‘ سمجھا جاتا ہے۔

عارف یوسفزئی نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ جاری سیاسی معاملات اور موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ریاستی اداروں کو مختلف حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاست مولانا فضل الرحمان کو اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرنے پر آمادہ کرنا چاہتی ہے تو متعلقہ ادارے بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ کس انداز میں معاملات طے کیے جاسکتے ہیں۔

Related Articles