امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کا احتساب کرنے اور صدارتی اختیارات پر نگرانی سخت کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں کم از کم 54 نشستیں حاصل کرکے اکثریت قائم کرلی ہے جبکہ ایوانِ نمائندگان میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط بناتے ہوئے کم از کم 30 نشستوں کا اضافہ کیا ہے۔
اس انتخابی کامیابی کے بعد ڈیموکریٹک قیادت نے واضح کیا ہے کہ نئی کانگریس کی ترجیحات میں مہنگائی پر قابو پانا، عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنا اور ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کی تحقیقات شامل ہوں گی۔
یہ پیش رفت امریکی سیاست میں طاقت کے توازن کی اہم تبدیلی ہے کیونکہ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے پہلے دو سال میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل تھی۔ اب ڈیموکریٹس کو قانون سازی، حکومتی نگرانی اور صدارتی نامزدگیوں کے معاملات میں زیادہ اثرورسوخ حاصل ہوگا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے احتساب کا منصوبہ تیار
ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز نے انتخابی کامیابی کے بعد کہا ہے کہ ان کی جماعت عوام کو درپیش مہنگائی کے مسائل حل کرنے اور ٹرمپ انتظامیہ کا احتساب کرنے کو ترجیح دے گی۔
ڈیموکریٹس نئی کانگریس کے اجلاس کے بعد مختلف سرکاری معاملات کی تحقیقات شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ کمیٹیوں کے اختیارات استعمال کیے جائیں گے اور انتظامیہ سے اہم فیصلوں، دستاویزات اور پالیسیوں کے بارے میں جواب طلب کیا جاسکے گا۔
اس کے علاوہ سینیٹ میں اکثریت ملنے کے بعد ٹرمپ کی جانب سے اہم سرکاری عہدوں کے لیے نامزد کیے جانے والے افراد کی منظوری بھی ڈیموکریٹس کے اختیار میں ہوگی۔
یوں صدر کو اپنی انتظامیہ کے اہم عہدوں پر تقرریوں اور قانون سازی کے معاملات میں نئی پارلیمانی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ایران جنگ اور مہنگائی نے انتخابی نتائج بدل دیے
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے اہم عوامل میں ایران کے ساتھ جنگ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور صدر ٹرمپ کی معاشی پالیسیاں شامل قرار دی جارہی ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران مہنگائی اور روزمرہ اخراجات امریکی ووٹرز کے اہم مسائل رہے۔ ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بھی عوامی تشویش کو بڑھایا۔
ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس میں پہلا خطاب، تعاون کی پیشکش
انتخابی شکست کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے عوامی خطاب میں ڈیموکریٹس کے ساتھ تعاون کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
اس موقع پر انہوں نے وائٹ ہاؤس میں زیر تعمیر نئے بال روم کا دورہ بھی کرایا اور کہا کہ وہ اس عمارت کو امریکا کی علامت کے طور پر بہترین انداز میں تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ڈیموکریٹس حکومتی معاملات میں مشکلات پیدا کریں گے تو وہ صدارتی ویٹو کا اختیار استعمال کریں گے۔
اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون کے امکانات کے ساتھ سیاسی کشیدگی بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
جنوری سے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے نیا امتحان
نئی کانگریس کا اجلاس جنوری میں شروع ہونے کے بعد ڈیموکریٹس کو اپنے اختیارات استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔
وہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کرسکیں گے اہم قانون سازی میں اپنی شرائط پیش کرسکیں گے اور صدارتی نامزدگیوں کی منظوری روکنے کا اختیار بھی استعمال کرسکیں گے۔
خصوصاً سینیٹ کی متعلقہ کمیٹیوں کی سربراہی ملنے سے حکومتی معاملات کی چھان بین اور انتظامی فیصلوں پر سوالات اٹھانے کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔
تاہم صدر ٹرمپ کے پاس قانون سازی پر ویٹو کا اختیار برقرار رہے گا۔ اس لیے ڈیموکریٹس کو اپنے قانون سازی کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے ایوانِ صدر کے ساتھ سیاسی کشمکش کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔