وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان میں انتظامی یونٹس کی تشکیل کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آبادی بڑھنے کے باعث انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی ضروری ہوچکی ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تجویز گزشتہ دو ماہ سے زیر بحث ہے۔ ان کے خیال میں پاکستان میں بھی انتظامی یونٹس بنائے جانے چاہئیں، دنیا کے کئی ممالک میں ایسا انتظام موجود ہے۔ اگر 12 انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز ہے تو ان کی تعداد 12 کرلی جائے، تاہم ان کی تشکیل زبان، نسل یا سیاسی مفادات کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے، اس لیے لوگوں کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے انتظامی تقسیم ناگزیر ہے۔ افغانستان کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں 8 سے 10 صوبوں کو تقسیم کرکے 30 سے 32 صوبے بنائے گئے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ صوبائی دارالحکومتوں کے اختیارات انتظامی یونٹس کو منتقل ہونے چاہئیں تاکہ لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں طاقت کا ارتکاز ختم ہو اور انتظامی معاملات نچلی سطح تک منتقل کیے جاسکیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکز سے صوبوں کو منتقل ہونے والے فنڈز صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر رہ جاتے ہیں، حالانکہ ان فنڈز کا اصل مستحق بلدیاتی نظام ہے۔ بدقسمتی سے بلدیاتی ادارے بھی صوبائی حکومتوں کے اختیار اور رحم و کرم پر ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سیاستدانوں کو سمجھنا چاہیے کہ اقتدار اور اختیارات عوام کی امانت ہیں، لیکن سیاستدانوں کا عمومی نقطہ نظر یہ ہے کہ تمام طاقت اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں۔
