خیبر پختونخوا کی نئی حکومت کا دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان

خیبر پختونخوا کی نئی حکومت کا دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور سیکریٹری داخلہ نے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے دہشت گردی کے خلاف نئی حکمت عملی کا اعلان کر دیا ہے۔

پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، مشیر داخلہ اور سیکریٹری داخلہ امجد علی خان نے ایک اہم اور مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران صوبے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔

پریس کانفرنس کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان قائم کرنے والے ادارے اور مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ ان اداروں کو ماضی میں صوبائی حکومت کی جانب سے مطلوبہ سیاسی حمایت حاصل نہیں تھی اور نہ ہی صوبائی حکومت انہیں مناسب انداز میں اون کر رہی تھی۔

ریاستی اداروں کو اکیلا چھوڑنا اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنا دراصل ملک دشمنی کے مترادف ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

وفاقی افغان پالیسی اور نفاذ کے چیلنجز

پریس بریفنگ میں یہ بات بھی کھل کر سامنے آئی کہ ملکی مفادات، سرحدوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے ایک جامع افغان پالیسی ترتیب دی تھی۔

 تاہم خیبر پختونخوا میں صوبائی انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث اس پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہ ہو سکا۔

وفاقی اور صوبائی سطح پر پالیسی کے نفاذ میں اس فکری و انتظامی تضاد نے سرحد پار کی سرگرمیوں اور شدت پسند عناصر کے حوصلے بڑھائے، جس کا براہِ راست اثر صوبے کے امن پر پڑا۔

حکام نے واضح کیا کہ سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی بدولت ہی امن ممکن ہے اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی مہم کا مقصد ملک کو اندرونی طور پر کمزور کرنا ہے۔

سیکریٹری داخلہ نے بریفنگ میں بتایا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی اور انسدادِ دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت نے 70.1 ارب روپے کا نیا جامع سیکیورٹی پلان اور اصلاحاتی حکمت عملی کا اعلان کر دیا ہے۔

صوبے میں ماضی کے دوران سیاسی سرپرستی کے فقدان، یکساں افغان پالیسی کے نہ ہونے اور گمراہ کن پروپیگنڈے نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کو بری طرح کمزور کیا۔

ضم شدہ اضلاع کے لیے سیکیورٹی بجٹ میں محض 3.2 فیصد حصہ مختص کیا گیا، جہاں پولیس میں 10,587 اہلکاروں کی کمی رہی جبکہ 15,186 خاصہ دار ضم کیے گئے جن میں اکثریت ناخواندہ اور 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد کی تھی، جس سے مجموعی نفری کی کمی 15 فیصد تک پہنچ گئی۔

پولیس کو ٹرانسپورٹ کی 36 فیصد اور کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کی 88 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

سی ٹی ڈی میں 638 اہلکاروں کی کمی، ناکافی مواصلاتی ٹیمیں اور خالی کمانڈ عہدے موجود تھے۔ سنہ 2014 میں قیام کے باوجود سی ٹی ڈی کا انفراسٹرکچر 37 میں سے صرف 12 اضلاع میں قائم ہو سکا اور 22 اضلاع کے لیے منظور شدہ 6.4 ارب روپے میں سے صرف 1 ارب روپے جاری کیے گئے۔

بریفنگ میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ سال 2024 سے ستمبر 2026 تک 1,003 فوجی، 627 پولیس اہلکار اور 808 شہری جاں بحق ہوئے، جن کی مجموعی تعداد 2,438 رہی، جبکہ اسی عرصے میں 3,788 دہشتگرد بھی ہلاک کیے گئے۔

اس دوران غیر قانونی سرگرمیوں میں 5,080 ملین روپے کی 830 اسمگلنگ، 3,823 ملین روپے کی 19,978 منشیات، 36.8 ملین روپے کی 82 بھتہ خوری اور 1,088 ملین روپے کی 216 نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کیسز ریکارڈ ہوئے، جس سے سالانہ معاشی نقصان 10,027.8 ملین روپے تک رہا۔

مستقبل کے منصوبے اور مالیاتی و انتظامی اہداف

ان تمام چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لیے حکومت نے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کر لیا ہے۔ گزشتہ 10 سال میں سیکیورٹی پر 98 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں جبکہ آئندہ کے لیے 70.1 ارب روپے مجوزہ ہیں، جن میں پولیس کے لیے 59.8 اور سی ٹی ڈی کے لیے 10.3 ارب روپے شامل ہیں۔

پولیس تنصیبات کی مضبوطی، سیف سٹی منصوبوں کی توسیع، 3 اضلاع میں اینٹی ڈرون سسٹمز، 10 اضلاع میں نیور سینٹرز اور سیف سٹیز اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔

اہداف کے تحت پولیس تنصیبات کی 75 فیصد مضبوطی، 60 فیصد نگرانی، 34 اضلاع میں سی ٹی ڈی انفراسٹرکچر اور 70 فیصد سی ٹی ڈی نگرانی یقینی بنائی جائے گی، جس کے لیے انفراسٹرکچر کی مد میں 38.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ سیف سٹیز قانون سازی، فیس لیس انسدادِ دہشت گردی عدالتیں، سیٹلائٹ کمیونیکیشن، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے بیانیے کی نگرانی، اور بیرونِ ملک مراکز سمیت پولیس سہولت مراکز کی توسیع کی جا رہی ہے۔

عوامی رابطہ کاری، تربیتی اقدامات اور صلاحیتوں میں اضافہ

عوام اور اداروں کے درمیان خلیج کم کرنے کے لیے تمام اضلاع میں تنازعات کے حل کے مراکز (ڈی آر سی) اور قبائلی رابطہ کمیٹیوں کا قیام، عمائدین و علما سے جرگے، ماہانہ کھلی کچہریاں اور 406 تھانوں میں اسمارٹ فرنٹ ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔

پاک فوج کے ساتھ مشترکہ تربیت اور ڈرون، اینٹی ڈرون، اسنائپنگ اور اے پی سی ڈرائیونگ کے کورسز کا آغاز کیا گیا ہے جبکہ شہدا پیکیج اور سیکیورٹی چیلنج الاؤنس میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں تیزی، علاقے کلیئر کرنا، سہولت کاروں کی گرفتاریاں، فورتھ شیڈولرز کی تصدیق، ریپڈ رسپانس فورس کی مضبوطی، آئی ایس آر کے ذریعے نگرانی، غیر قانونی اسپیکٹرم کی روزانہ مانیٹرنگ اور نئی چیک پوسٹوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔

پولیس کی صلاحیتوں کے اہداف کے تحت کاؤنٹر ایریل 1 سے 50 فیصد، فضائی حملے و نائٹ فائٹنگ 18 سے 50 فیصد، گاڑیوں کی آرمر 19 سے 45 فیصد، اے پی سی کی دستیابی 61 سے 80 فیصد، عام گاڑیوں کی دستیابی 50 سے 70 فیصد اور جیمرز 40 سے 50 فیصد کیے جا رہے ہیں۔

سی ٹی ڈی کے لیے کاؤنٹر ڈرون صلاحیت 52 سے 60 فیصد، گاڑیوں کی دستیابی 50 سے 80 فیصد، آرمر 16 سے 70 فیصد اور جیمرز 3 سے 50 فیصد مقرر کیے گئے ہیں، جس کے لیے خریداری پر 31.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

پولیس نفری کی کمی کو 15 سے کم کر کے 5 فیصد تک لانا، ایس پی وی کے ذریعے سی ٹی ڈی آپریٹرز بھرتی کرنا، خالی کمانڈ عہدے پُر کرنا اور حفاظتی سامان کی 79 فیصد کمی کے مقابلے میں 100 فیصد ہدف حاصل کرنا نئی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔

نئی حکمت عملی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی

بریفنگ کے دوران سیکریٹری داخلہ امجد علی خان نے صوبے میں انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے نئی حکمت عملی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی ڈومین میں بنیادی تبدیلی لائی جا رہی ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ خیبر پختونخوا کے متعدد دیہی اور دور دراز علاقوں میں عوام کو بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے، جو کہ کئی سماجی و سیکیورٹی مسائل کی جڑ ہے۔

نئی پالیسی کے تحت نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو تیز کیا جائے گا بلکہ متاثرہ علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی فوری توجہ دی جائے گی تاکہ عوام میں محرومی کا احساس ختم کیا جا سکے۔

سیکیورٹی چیلنجز اور انتظامی اصلاحات

خیبر پختونخوا میں طویل عرصے سے درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا گہرا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ محض عسکری کارروائیوں سے پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں جب تک سیاسی و انتظامی مشینری کا مکمل تعاون شامل نہ ہو۔

وفاق کی افغان پالیسی پر سختی سے عمل در آمد اور صوبائی سطح پر یکسوئی کا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

نئی حکمت عملی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اب سیکیورٹی فورسز اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان بہتر ربط قائم کیا جا رہا ہے۔ جن علاقوں میں سیکیورٹی اور بنیادی سہولیات کا فقدان رہا ہے، وہاں ترقیاتی اصلاحات اور سخت سیکیورٹی اقدامات کو بیک وقت نافذ کرنے سے ہی شدت پسند عناصر کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

Related Articles