امریکا کا ایران کے خلاف گھیرا تنگ، زمینی راستوں اور بحیرہ قزوین کی مانیٹرنگ کے لیے نئی ’ٹاسک فورس آئرن گیٹ‘ قائم

امریکا کا ایران کے خلاف گھیرا تنگ، زمینی راستوں اور بحیرہ قزوین کی مانیٹرنگ کے لیے نئی ’ٹاسک فورس آئرن گیٹ‘ قائم

امریکی سینٹکام نے ایران کے خلاف دباؤ میں اضافہ کرتے ہوئے زمینی راستوں اور بحیرہ قزوین کے ذریعے ہونے والی آمد و رفت روکنے کے لیے نئی ‘ٹاسک فورس آئرن گیٹ’ قائم کر دی ہے۔


امریکی سنٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے 7 نومبر کو اس نئی یونٹ کی تشکیل کی باقاعدہ ہدایت جاری کی۔ یہ یونٹ تقریباً 20 سویلین اور فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہوگی، جس کا مرکزی دفتر ریاست فلوریڈا کے شہر تمپا میں قائم کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے، امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ ثالثی کے لیے تیار ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

 

یہ ٹاسک فورس دیگر امریکی سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر ایران کی زمینی سرحدوں اور بحیرہ قزوین کے راستے جدید ہتھیاروں، دہرے استعمال کی ٹیکنالوجیز (ڈوئل یوز ٹیکنالوجی)، پابندی کا شکار مواد اور غیر قانونی آمدنی کے ذرائع کی نقل و حرکت کو مانیٹر کرے گی اور اسے روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔


سمندری ناکہ بندی

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن پہلے ہی ایرانی بندرگاہوں پر سخت سمندری ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

سینٹکام کے مطابق خلیج فارس اور خلیج عمان میں نافذ کردہ ان سمندری پابندیوں کے باعث گزشتہ چند مہینوں میں ایران کو 25 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے خام تیل کی برآمدات سے روکا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:چین کا امریکا اور ایران سے کشیدگی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز جلد کھولنے کا مطالبہ

 

امریکا اور ایران کے درمیان جاری دیرینہ تنازع کے تناظر میں، واشنگٹن نے حالیہ برسوں میں تہران کے مالیاتی اور عسکری نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے اقتصادی اور دفاعی دباؤ کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنایا ہوا ہے۔

بحیرہ عرب اور خلیج کے راستوں پر سخت گیر پہرا بٹھانے کے بعد اب زمینی اور اندرونی آبی گزرگاہوں کا رخ کرنا اسی حکمت عملی کا تسلسل ہے۔

سیکیورٹی چیلنجز اور عسکری حکمت عملی

جب سمندری راستوں پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے تو روایتی طور پر ریاستیں اپنے عسکری و اقتصادی نیٹ ورکس کو برقرار رکھنے کے لیے زمینی راستوں اور داخلی سمندری حدود کا سہارا لیتی ہیں۔

ایران نے بھی بحری ناکہ بندی کے بعد اپنی رسد کے لیے زمینی سرحدوں اور بحیرہ قزوین کے راستوں کو زیادہ فعال کیا تھا۔

Related Articles