فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا بڑا فیصلہ، اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں پراپرٹی ویلیوایشن کا نیا طریقہ کار نافذ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا بڑا فیصلہ، اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں پراپرٹی ویلیوایشن کا نیا طریقہ کار نافذ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں جائیداد کی سرکاری قیمتوں کے تعیّن کا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے اسے ڈسٹرکٹ کلیکٹر ریٹس سے منسلک کر دیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہدایت نامے کے مطابق اسلام آباد کے دیہی خطوں میں واقع اراضی اور پراپرٹی کی قیمتوں کو اب ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ نرخوں کے تابع کر دیا گیا ہے۔

اس نئے فیصلے کے تحت ان علاقوں میں پراپرٹی کی سرکاری قیمتوں کا تعیّن ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) یا ڈسٹرکٹ کلیکٹر اسلام آباد کے جاری کردہ تازہ ترین آفیشل ریٹس کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ریاست کوئی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں، فضل الرحمان سڑکوں پر نکلے تو گرفتار کر لیا جائے گا، معروف صحافی جاوید چوہدری کا بڑا دعویٰ

اس تبدیلی کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی دیہی حدود میں واقع جائیدادوں کی ویلیوایشن کسی غیر حتمی یا پرانے تخمینے کی بجائے ضلعی انتظامیہ کے قائم کردہ حقیقت پسندانہ اور اپ ڈیٹ شدہ سرکاری نرخوں پر مبنی ہو۔

پرانا طریقہ کار

ماضی میں اسلام آباد کے دیہی اور شہری علاقوں میں پراپرٹی کی ویلیو کے تعیّن کے لیے مختلف ادارے اپنے اپنے سلیب اور نرخ مقرر کرتے تھے، جس کی وجہ سے اکثر ایف بی آر کی ویلیوایشن ٹیبلز اور مقامی ڈسٹرکٹ کلیکٹر کے مقرر کردہ ڈی سی ریٹس میں نمایاں فرق دیکھنے کو ملتا تھا۔

اس دہرے نظام سے نہ صرف اراضی کی خریدو فروخت کے وقت خریداروں اور فروخت کنندگان کو ابہام کا سامنا رہتا تھا بلکہ ٹیکس کی وصولی میں بھی تفاوت پیدا ہوتا تھا۔

ایف بی آر طویل عرصے سے ملک بھر میں پراپرٹی کے شعبے میں فیئر مارکیٹ ویلیو کے نفاذ کے لیے کام کر رہا ہے۔

اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں یہ اصلاحات لانے کی بڑی وجہ وہاں حالیہ سالوں میں ہونے والی تیز رفتار رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ ہے، جس کے باعث ان علاقوں کی زمین کی حقیقی قدر میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا لیکن سرکاری ریکارڈ میں پرانے ریٹس کی وجہ سے قومی خزانے کو مطلوبہ محصول حاصل نہیں ہو رہا تھا۔

معاشی اثرات اور ریونیو نظام

رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور ٹیکس انتظامیہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایف بی آر کا یہ اقدام پراپرٹی سیکٹر کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس لیکج کو روکنے کی سمت ایک اہم پیشرفت ہے۔

دیہی اراضی کو ڈسٹرکٹ کلیکٹر ریٹس سے جوڑنے سے جائیداد کی خرید و فروخت کے عمل میں شفافیت آئے گی اور سرکاری اراضی کے ریٹس میں بار بار آنے والے تفاوت کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں:سگریٹ مافیا کی دیدہ دلیری، ایف بی آر ٹیم سے ضبط شدہ مال چھین لیا

اس فیصلے کے نتیجے میں جہاں ایک طرف ٹیکس کا دائرہ کار وسیع ہوگا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے کیپٹل گینز ٹیکس (سی جی ٹی) اور دیگر ودہولڈنگ ٹیکسز کی وصولی میں اضافہ ہوگا، وہیں دوسری طرف دیہی علاقوں میں پراپرٹی کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کو حقیقی اور بنیادی سرکاری ریٹس کے مطابق پراپرٹی ٹرانسفر فیس ادا کرنا ہوگی۔

یہ قدم غیر قانونی سرمایہ کاری کو حوصلہ شکن بنانے اور ریئل اسٹیٹ کے کاروباری ماحول میں یکسانیت لانے کے لیے انتہائی مؤثر ثابت ہوگا۔

Related Articles