ریاست کوئی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں، فضل الرحمان سڑکوں پر نکلے تو گرفتار کر لیا جائے گا، معروف صحافی جاوید چوہدری کا بڑا دعویٰ

ریاست کوئی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں، فضل الرحمان سڑکوں پر نکلے تو گرفتار کر لیا جائے گا، معروف صحافی جاوید چوہدری کا بڑا دعویٰ

معروف اینکر پرسن جاوید چوہدری نے خبردار کیا ہے کہ احتجاج کی صورت میں فضل الرحمان کی گرفتاری اور جے یو آئی (ف) کے خلاف بڑا ریاستی کریک ڈاؤن متوقع ہے۔

معروف اینکر پرسن، صحافی اور کالم نگار جاوید چوہدری نے موجودہ سیاسی صورتحال کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ذاتی اور صحافتی تجربہ واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ اگر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ  فضل الرحمان نے احتجاج کے لیے سڑکوں کا رخ کیا تو انہیں فوراً گرفتار کر لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:مذہب کا لبادہ اوڑھ کر غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ ، فضل الرحمان سے منسلک مدارس کی عمارتوں کے خلاف سی ڈی اے کا باضابطہ ایکشن، نوٹسز جاری!

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جس انداز میں فضل الرحمان کے خلاف چیزیں چل رہی ہیں اور مسلسل نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست اب کسی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔

اس تمام تر صورتحال سے یہ صاف اندازہ ہوتا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف)، ان کے حامیوں اور دینی مدارس کے خلاف آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر سخت قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

مدارس کے طلبہ کا سیاسی استعمال اور تنظیمی ڈھانچہ

جاوید چوہدری کے مطابق فضل الرحمان کی قوت کا اصل سرچشمہ عام یا روایتی سیاسی کارکنوں کے بجائے بنیادی طور پر مدارس کے طلبہ اور ان سے منسلک نوجوان ہیں۔ سیاسی میدان میں طلبہ کی اس افرادی قوت پر انحصار ایک ایسا عنصر ہے جو سیکیورٹی اور انتظامی اداروں کی توجہ کو مزید تیز کر دیتا ہے۔

ریاستی ادارے عام طور پر تعلیمی و دینی اداروں کے سیاسی استعمال کو امن و امان کے لیے بڑا چیلنج تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر احتجاجی تحریک میں مدارس کے طلبہ کو سڑکوں پر لایا گیا تو انتظامیہ کا ردِعمل زیادہ سخت اور فوری ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف قیادت کی گرفتاری کے امکانات بڑھ جائیں گے بلکہ دینی مدارس کے خلاف بھی سخت تادیبی اقدامات کا راستہ ہموار ہوگا۔

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست اور سیکیورٹی کی تاریخ شاہد ہے کہ جب ریاستی مشینری امن و امان یا اپنے اقتدارِ اعلیٰ کے تحفظ کا فیصلہ کر لیتی ہے تو وہ منظرِ عام پر واضح دکھائی دینے لگتا ہے۔

گزشتہ 4 سے 5 سال کے سیاسی و سیکیورٹی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ریاست نے جن طاقتوں کے خلاف بھی تادیبی فیصلہ کیا، اس پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا گیا۔

مزید پڑھیں:فضل الرحمان خود کو ’ٹچ می ناٹ‘ سمجھتے ہیں،مگر ریاست انہیں ڈیل کرنے کا طریقہ جانتی ہے،سینئر صحافی عارف یوسفزئی

چاہے وہ کالعدم طالبان کے خلاف لیے گئے سخت سیکیورٹی فیصلے ہوں یا پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف کی جانے والی ملک گیر انتظامی کارروائیاں، ریاست نے کبھی اپنا مؤقف واپس نہیں لیا۔

ماضی میں جو سیاسی قائدین یا کارکنان گرفتار ہوئے، وہ طویل عرصے سے جیلوں میں قید ہیں اور انہیں فی الحال کوئی سیاسی یا قانونی ریلیف ملتا نظر نہیں آ رہا۔

سیاسی مستقبل اور محاذ آرائی

موجودہ حالات کا گہرا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ جے یو آئی (ف) اور ریاست کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک سنگین موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ جب ریاست نوٹسز اور قانونی شکنجے کے ذریعے گھیرا تنگ کرتی ہے تو اس کا مقصد مخالف فریق کو سیاسی میدان سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فضل الرحمان کے قریبی اتحادی مفتی ابرار سے منسوب حج ٹور آپریٹرز کوسیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے شوکاز نوٹس جاری

جاوید چوہدری کے مطابق  فضل الرحمان کے لیے اب گنجائش انتہائی محدود ہو چکی ہے۔ اگر وہ سڑکوں پر نکلنے کی روایتی سیاست کا انتخاب کرتے ہیں تو ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ انہیں نہ صرف گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ ان کی جماعت کے تنظیمی ڈھانچے کو بھی شدید دھچکا پہنچے گا۔

ریاست اپنے پچھلے فیصلوں سے قدم پیچھے نہ ہٹانے کی پالیسی پر گامزن ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار بھی تصادم کا نتیجہ جے یو آئی (ف) کے سیاسی نفوذ میں شدید کمی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

Related Articles