لاہور میں فضائی آلودگی کے حوالے سے پانچ سال بعد پہلی مرتبہ اکتوبر کا مہینہ نسبتاً صاف رہا، فضائی آلودگی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ رواں سال اکتوبر میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کی سطح 300 سے تجاوز کر گئی ہو۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں بتایا کہ اکتوبر 2026 کے دوران لاہور کی فضائی آلودگی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق فضائی آلودگی ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے اور اسموگ کی صورتحال کا جائزہ سیاسی بیانات یا غیر مستند اندازوں کے بجائے سائنسی حقائق اور مستند اعدادوشمار کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
مریم اورنگزیب نے وضاحت کی کہ سیٹلائٹ تصاویر اور آگ لگنے کے واقعات کی تعداد کو فضائی آلودگی کا مکمل پیمانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ناسا کا فائر ڈیٹیکشن سسٹم مختلف مقامات پر حرارتی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن ہر نشاندہی کو الگ آگ کا واقعہ سمجھنا درست نہیں۔ اسی طرح سرحد کے دونوں جانب آگ لگنے کے واقعات کی تعداد سے بھی لاہور کی فضائی آلودگی کی شدت کا براہ راست تعین نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں اسموگ کی شدت پر ہوا کی سمت، درجہ حرارت اور دیگر موسمی عوامل بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ سردیوں کے موسم میں فضائی آلودگی زمین کے قریب جمع ہونے لگتی ہے، جس سے اسموگ کی صورتحال سنگین ہو جاتی ہے۔
صوبائی وزیر کے مطابق اعدادوشمار میں سب سے اہم تبدیلی PM2.5 کی سطح میں سامنے آئی ہے۔ اکتوبر 2025 میں لاہور میں PM2.5 کی اوسط مقدار 136.3 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی تھی، جو اکتوبر 2026 میں کم ہو کر 100.1 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہ گئی۔ اس طرح سالانہ بنیاد پر فضائی آلودگی میں 27 فیصد کمی سامنے آئی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے تحت لاہور کے 26 مانیٹرنگ مقامات پر بھی آلودگی کی سطح میں کمی دیکھی گئی، جبکہ پنجاب کلائمیٹ واچ کے اعدادوشمار کے مطابق فضائی آلودگی کے چھ بڑے اشاریوں میں مجموعی طور پر 15 فیصد بہتری ریکارڈ ہوئی۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2026 کے دوران لاہور میں فضائی آلودگی کی بلند ترین AQI سطح میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 28 فیصد کمی ہوئی۔ اکتوبر 2025 میں شہر میں AQI کی سطح 300 سے زیادہ ہونے کے چار دن ریکارڈ کیے گئے تھے، تاہم اکتوبر 2026 میں ایسا کوئی دن سامنے نہیں آیا،ان کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد رواں سال اکتوبر لاہور کا صاف ترین مہینہ رہا، جو فضائی آلودگی کی صورتحال میں آنے والی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
صوبائی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فضائی آلودگی میں کمی کو صرف حکومتی اقدامات کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا کیونکہ موسمی حالات اور دیگر قدرتی عوامل بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آلودگی سے متعلق اعدادوشمار کا آزادانہ جائزہ، مستند مانیٹرنگ اور شفاف رپورٹنگ ضروری ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے حکومتی کوششیں جاری رہیں گی اور فضائی آلودگی پر قابو پانا عوامی صحت کے تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔