خیبرپختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات برائے 12 اضلاع محمود جان بابر نے آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں پولیس کو سکیورٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے 6 ارب 40 کروڑ روپے درکار تھے، تاہم اس مد میں صرف ایک ارب روپے فراہم کیے گئے۔ گزشتہ 10 سال کے دوران پولیس کو مجموعی طور پر 98 ارب روپے ملے، جبکہ صرف رواں سال پولیس کے لیے 70 ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے محمود جان بابر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی اداروں کی استعداد کار بڑھانے پر کام کیا جا رہا ہے۔ پولیس کو مالی وسائل کی فراہمی میں اضافہ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ فورس اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دے سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت میں سیف سٹی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں، جن کے تحت جدید نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا۔ ان منصوبوں سے جرائم اور دہشتگردی کی سرگرمیوں کی نگرانی، مشکوک نقل و حرکت کی نشاندہی اور سکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔
محمود جان بابر نے کہا کہ دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے فیس لیس کورٹس بھی قائم کی جا رہی ہیں اس نظام کے تحت دہشتگردوں کو یہ معلوم نہیں ہو سکے گا کہ ان کے مقدمات کی سماعت کرنے والا جج کون ہے اور گواہی دینے والے افراد کون ہیں۔ اس اقدام کا مقصد عدالتی عمل سے وابستہ ججز، گواہوں اور دیگر متعلقہ افراد کو دہشتگردوں کے ممکنہ دباؤ اور خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
میر علی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا کہ وہاں مقامی لوگ خود اپنے گھروں سے نکل رہے ہیں اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی حمایت کر رہے ہیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ ان کے علاقوں کو دہشتگردوں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے تاکہ معمولات زندگی بحال ہوں اور شہری خوف کے ماحول سے باہر نکل سکیں۔
انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کی حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عوام امن چاہتے ہیں اور اپنے علاقوں میں دہشتگردوں کا خاتمہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
