بلوچستان نیشنل پارٹی(بی این پی ) کے سربراہ سرداراختر مینگل کی آئینی ترامیم کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو پر حکومتی و سکیورٹی ذرائع کا رد عمل آگیا۔
حکومتی و سیکیورٹی ذرائع نے اختر مینگل کی حالیہ میڈیا گفتگو پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بی این پی مینگل کے کل تین ووٹ ہیں۔ اختر مینگل صاحب خود تو آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں، بلکہ میڈیا سے بات چیت بھی کر رہے ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ وہ اپنے پارٹی پر ہونے والے ظلم و جبر کی افسانوی داستان تو سنا رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی پارٹی سینیٹر نسیمہ احسان پارلیمنٹ لاجز میں موجود ہیں اور دو دن پہلے سینٹ کے اجلاس میں بھی حاضر تھیں۔ جبکہ سینیٹر قاسم رونجھو بھی اپنے گھر پر موجود ہیں، تھوڑی دیر پہلے ان کے بیٹے نے سوشل میڈیا پر اپنے والد کی خیریت کے بارے میں پوسٹ بھی شیئرکی ہے۔
حکومتی و سیکورٹی ذرائع نے اختر مینگل سے درخواست کی کہ وہ میڈیا پر بیانیہ بنانے کے بجائے جمہوری رویوں بشمول مشاورت پر زور دیں۔
دوسری جانب سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم خفیہ طریقے سے لائی جا رہی ہیں، اور ان کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کوئی خفیہ دستاویز نہیں ہوتی، ہر شہری کا حق ہے کہ وہ آئینی ترامیم کے بارے میں آگاہ ہو۔
اختر مینگل نے سوال اٹھایا کہ ان ترامیم کا سربراہ کون ہے اور کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسی جمہوریت نہیں ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی ڈکٹیٹرز گزرے ہیں، انہوں نے بھی ریفرنڈم کروایا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں گزشتہ ایک ماہ سے ہنگامی صورتحال ہے اور آئینی ترامیم خفیہ طور پر کی جا رہی ہیں۔ وہ اس عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، خاص طور پر جب یہ زور زبردستی کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔
اختر مینگل نے بتایا کہ مسودے کو مختلف اقساط میں شیئر کیا جا رہا ہے اور مشرف کے دور میں بھی انہوں نے گن پوائنٹ پر مذاکرات نہیں کیے۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ ایسی کون سی ایمرجنسی ہے جس کی وجہ سے راتوں رات خفیہ ترمیم کی ضرورت پیش آئی، اور ایسی کون سی ترمیم ہے جسے پبلک کرنا حکمرانوں کے لیے باعث شرم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے کسی رکن کی کوئی حیثیت نہیں۔ قاسم بزنجو اور ان کے بیٹے گزشتہ پانچ دن سے غائب ہیں، اور سید احسان شاہ کو پارلیمنٹ لاجز میں یرغمال بنا کر ان کی بیوی کو دباؤ میں لایا جا رہا ہے۔
آخری میں انہوں نے کہا کہ کیا یہی ووٹ کی عزت ہے؟ ہمارے نمائندگان اغوا کیے جا رہے ہیں۔ میں اپنے ممبران سے یکجہتی کے اظہار کے لیے وطن آیا ہوں۔ آئینی ترامیم کے حوالے سے مجھ سے رابطہ کیا گیا، لیکن میں نے کہا کہ میں استعفیٰ دے چکا ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ان کے ممبران واپس نہیں آتے، وہ کسی بھی ترمیم کا حصہ نہیں بنیں گے، چاہے اس میں جنت کا راستہ دکھایا جائے۔
آخری میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک ان کے غائب سینیٹرز واپس نہیں آتے، وہ کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے اور آئینی ترمیم کے حوالے سے اپوزیشن اتحاد سے مشورہ کریں گے۔