اسلام آباد۔ وفاقی حکومت کی جانب سے آج رات پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر سے زائد اضافے کا امکان ہے۔ اس اقدام کا مقصد آئل ریفائنریز کی مدد، سیلز ٹیکس کے مسائل کو پورا کرنے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے منافع کے مارجن کو بہتر بنانے کے لئے تقریبا 35 ارب روپے حاصل کرنا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق، فنانس ایکٹ 2024-25 کے تحت پیٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) سمیت تمام پیٹرولیم مصنوعات کو “استثنیٰ” حاصل ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں ان پٹ سیلز ٹیکس اب ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے لیے اضافی لاگت بن چکا ہے، جس کا تخمینہ مالی سال 2024-25 کے دوران تقریباً 35 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ تاہم، اوگرا کی جانب سے نافذ کردہ حکومتی قواعد و ضوابط کے تحت، یہ لاگت مصنوعات کی قیمتوں میں شامل کر کے صارفین سے وصول نہیں کی جا سکتی۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں پر 3 سے 5 فیصد سیلز ٹیکس لگانے پر غور کیا لیکن بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہونے کے بعد یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا۔
اگر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا جاتا تو پٹرول کی قیمتوں میں 45 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوتا جو سیاسی اور معاشی طور پر ناقابل قبول ہے۔
نقصانات کی تلافی کے لیے حکومت اب ایندھن کے مارجن کو ایڈجسٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس میں ٹیکس خسارے کو پورا کرنے کے لئے 1.87 روپے فی لیٹر کا اضافہ، او ایم سیز کے مارجن میں 1.13 روپے فی لیٹر اضافہ اور ڈیلرز کے منافع میں 1.12 روپے فی لیٹر اضافہ شامل ہے۔ مجموعی طور پر پٹرول کی قیمتوں میں تقریبا 4.12 روپے فی لیٹر اضافہ ہوسکتا ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اس تجویز کا جائزہ لیا ہے اور کچھ تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔
حکومت کی جانب سے اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے آر ایل) کے فریٹ چارجز کو 30 فیصد بڑھا کر 1143.95 روپے فی بیرل سے بڑھا کر 1490 روپے فی بیرل کرنے کا امکان ہے کیونکہ تیل کی نقل و حمل کرنے والی اہم کمپنیوں نے موجودہ قیمت کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) حتمی فیصلہ کرے گی۔ اگر منظوری مل جاتی ہے تو پیٹرول کی نئی قیمتوں کا اطلاق جلد ہی ہو جائے گا جس کا براہ راست اثر ملک بھر کے صارفین پر پڑے گا۔