لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے سولر صارفین کے نیٹ میٹرنگ معاہدوں کے برعکس جاری کیے گئے بجلی کے بلوں کی درستگی کا عمل شروع کر دیا ہے جس سے ہزاروں صارفین کو ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق لیسکو نے ایسے صارفین کے بلوں میں ترمیم شروع کی ہے جن کے ساتھ بجلی کی پیداوار کے حوالے سے نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت معاہدے کیے گئے تھے تاہم بعد میں ان کے بل نیٹ بلنگ کے طریقہ کار کے مطابق جاری کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق لیسکو میں 8 فروری تک جمع کرائی گئی درخواستوں پر صارفین کے ساتھ نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت معاہدے کیے گئے تھے۔ ان صارفین کو معاہدے کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے تحت بلنگ ملنی تھی، تاہم بعض کیسز میں انہیں نیٹ بلنگ کے حساب سے بل جاری کیے گئے۔
اس تبدیلی کے باعث سولر صارفین کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ صارفین کی جانب سے اس معاملے پر اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد لیسکو نے متعلقہ ریکارڈ اور معاہدوں کا جائزہ لینا شروع کیا۔
دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد کمپنی نے ایسے ہزاروں صارفین کے بلوں کی تصحیح شروع کردی ہے جن کے معاہدے نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت تھے۔
ترمیم شدہ بلوں میں صارفین کو دوبارہ نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت بلنگ فراہم کی جارہی ہے۔ اس طرح جن صارفین کو نیٹ بلنگ کے تحت زیادہ رقم کے بل جاری ہوئے تھے، ان کے معاملات کو معاہدے اور متعلقہ پالیسی کے مطابق درست کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مسئلہ بنیادی طور پر بلنگ کے لیے کنکشن کمیشنڈ ہونے کی تاریخ استعمال کیے جانے سے پیدا ہوا۔ بعض صارفین کی درخواستیں اور معاہدے نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت ہونے کے باوجود بلنگ کے مرحلے پر کمیشننگ کی تاریخ کو بنیاد بنایا گیا، جس کے نتیجے میں صارفین کو نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ کے حساب سے بل جاری ہوگئے۔
سولر صارفین کے لیے یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کیونکہ نیٹ میٹرنگ اور نیٹ بلنگ میں بجلی کی خرید و فروخت اور صارف کے بل کا حساب مختلف طریقے سے کیا جاتا ہے۔ اس لیے پالیسی کے طریقہ کار میں تبدیلی کا براہِ راست اثر صارفین کے ماہانہ بجلی کے بل پر پڑتا ہے۔
لیسکو کی جانب سے بلوں کی تصحیح کا عمل شروع ہونے کے بعد ان صارفین کو امید ہے کہ جن کے ساتھ نیٹ میٹرنگ کے معاہدے موجود تھے، انہیں اسی معاہدے کے مطابق بلنگ کی جائے گی اور سابقہ بلوں میں ہونے والی اضافی وصولیوں یا غلط حساب کو بھی ریکارڈ کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
اس پیش رفت سے خاص طور پر وہ سولر صارفین متاثر ہوں گے جنہوں نے 8 فروری سے قبل نیٹ میٹرنگ کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھیں اور جن کے ساتھ متعلقہ پالیسی کے تحت معاہدے کیے گئے تھے۔
لیسکو کے اس اقدام کو سولر صارفین کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے نیٹ میٹرنگ معاہدوں اور جاری کیے جانے والے بجلی کے بلوں کے درمیان پیدا ہونے والا تضاد ختم ہونے کی توقع ہے۔