بھارتی پائلٹ چرس پی کر مسافرطیارے اڑانے لگے

بھارتی پائلٹ چرس پی کر مسافرطیارے اڑانے لگے

بھارت میں ایئر انڈیا کی ایک پرواز کے دوران طیارہ اچانک تقریباً 300 فٹ نیچے آنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے کے چیف پائلٹ کے ابتدائی ڈرگ اسکریننگ ٹیسٹ میں چرس کے استعمال کی نشاندہی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق ابتدائی ٹیسٹ کے نتائج کی مزید تصدیق ضروری ہے اور نمونے تفصیلی تجزیے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔

واقعے کے بعد دونوں پائلٹس کو تحقیقات مکمل ہونے تک پرواز کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کے حوالے سے بھی ایئر انڈیا اور تحقیقاتی ادارے کی جانب سے مختلف اعداد سامنے آئے ہیں۔

فوکٹ سے نئی دہلی جانے والی پرواز میں کیا ہوا؟

ایئربس اے 320 طیارہ 4 اگست کو تھائی لینڈ کے معروف سیاحتی شہر فوکٹ سے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے لیے روانہ ہوا تھا۔پرواز میں مجموعی طور پر 137 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران نے امریکا کے سامنے 6 کڑی شرائط رکھ دیں

دورانِ پرواز اچانک طیارے کی بلندی میں تقریباً 300 فٹ کی کمی واقع ہوئی۔ اچانک پیش آنے والی اس صورتحال نے طیارے میں موجود مسافروں اور عملے کو متاثر کیا، تاہم پائلٹس بعد میں طیارے کو قابو میں رکھنے اور اسے بحفاظت نئی دہلی پہنچانے میں کامیاب رہے۔ طیارے کی لینڈنگ کے بعد واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے متعلقہ بھارتی اداروں نے تحقیقات شروع کردیں۔

زخمی افراد کی تعداد پر مختلف معلومات کے مطابق واقعے کے دوران مجموعی طور پر 24 افراد زخمی ہوئے۔ تاہم ایئر انڈیا کی جانب سے ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ واقعے میں 17 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

چیف پائلٹ کا ڈرگ اسکریننگ ٹیسٹ زیرِ بحث

واقعے کی تحقیقات کے دوران سب سے اہم پیش رفت چیف پائلٹ کے ڈرگ اسکریننگ ٹیسٹ سے متعلق سامنے آئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیف پائلٹ کے ٹیسٹ میں مسئلہ سامنے آیا اورچرس کے استعمال کی نشاندہی ہوئی۔ تاہم اس مرحلے پر ابتدائی ٹیسٹ کے نتیجے کو حتمی قرار نہیں دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران جنگ بندی میں بطورثالثی اہم کردار، عالمی سطح پر پاکستان کی امن کاوشوں کا اعتراف

بھارتی وزارتِ ہوا بازی کے مطابق پرواز کے نئی دہلی پہنچنے کے بعد دونوں پائلٹس کے معمول کے طریقہ کار کے تحت نفسیاتی اثر رکھنے والے مادوں کے استعمال سے متعلق ٹیسٹ کیے گئے تھے۔

ابتدائی نتیجے کی مزید تصدیق ضروری

وزارتِ ہوا بازی کے مطابق کپتان کے ابتدائی اسکریننگ ٹیسٹ کا نتیجہ ایسا تھا جسے مزید تصدیقی جانچ کی ضرورت تھی۔ اسی وجہ سے متعلقہ نمونے مزید تفصیلی تجزیے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ ابتدائی ٹیسٹ میں سامنے آنے والی نشاندہی درست تھی یا نہیں۔ اس لیے پائلٹ کی جانب سے چرس کے استعمال کو تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے حتمی طور پر ثابت شدہ نہیں سمجھا جا رہا۔

اگر تصدیقی جانچ میں ابتدائی نتائج درست ثابت ہوتے ہیں تو اس معاملے کی سنگینی مزید بڑھ سکتی ہے، کیونکہ مسافر طیارے کے پائلٹ پر دورانِ پرواز سینکڑوں افراد کی حفاظت کی براہِ راست ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی

 دونوں پائلٹس کو پرواز سے ہٹا دیا گیا

واقعے کے بعد ایئر انڈیا کے دونوں پائلٹس کو عارضی طور پر پرواز کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام تحقیقات مکمل ہونے تک برقرار رہے گا۔ متعلقہ ادارے اب طیارے کی اچانک بلندی کم ہونے، عملے کے اقدامات اور چیف پائلٹ کے ابتدائی ڈرگ ٹیسٹ سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

 فضائی تحفظ کے نظام پر سوالات

حالیہ واقعے نے بھارت کی فضائی صنعت میں حفاظت، پائلٹس کی نگرانی اور پرواز سے متعلق حفاظتی نظام کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔خاص طور پر اگر چیف پائلٹ کے ڈرگ ٹیسٹ کے ابتدائی نتائج مزید جانچ میں درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ صرف ایک تکنیکی واقعے تک محدود نہیں رہے گا۔

ایسی صورت میں پائلٹس کی طبی اور نفسیاتی جانچ، فضائی کمپنیوں کے داخلی نگرانی کے نظام اور مسافروں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے نافذ ضابطوں کی مؤثریت پر بھی سوالات سامنے آسکتے ہیں۔ پیشہ ور فضائی سفر میں پائلٹس سے مکمل جسمانی اور ذہنی فٹنس کی توقع کی جاتی ہے، کیونکہ معمولی غلطی بھی طیارے میں موجود مسافروں اور عملے کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

ایئر انڈیا پہلے بھی بڑے حادثے کا سامنا کرچکی

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایئر انڈیا پہلے ہی اپنے آپریشنز اور فضائی حفاظت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ جون 2025 میں احمد آباد سے لندن جانے والی ایئر انڈیا کی **پرواز 171** ٹیک آف کے فوراً بعد حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔اس طیارے میں 242 افراد سوار تھے، جن میں سے صرف ایک شخص زندہ بچا، جبکہ زمین پر موجود 19 افراد بھی حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس بڑے حادثے کے بعد ایئر انڈیا کی فضائی حفاظت اور آپریشنل طریقہ کار پہلے ہی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:یوکرینی فضائیہ کا مگ-29 لڑاکا طیارہ تباہ

 پس منظر

بھارت کی فضائی صنعت میں حالیہ برسوں کے دوران مسافروں کی تعداد اور فضائی آپریشنز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے ساتھ فضائی حفاظت، پائلٹس کی تربیت، طبی نگرانی اور ایئرلائنز کے انتظامی نظام کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔

فوکٹ سے نئی دہلی آنے والی حالیہ پرواز کا واقعہ اس لیے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اس میں ایک جانب طیارے کی اچانک تقریباً 300 فٹ بلندی کم ہوئی، جبکہ دوسری جانب چیف پائلٹ کے ابتدائی ڈرگ اسکریننگ ٹیسٹ سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔

اب توجہ تصدیقی ٹیسٹ اور تحقیقاتی ادارے کی حتمی رپورٹ پر مرکوز ہے، جس کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ واقعے میں انسانی غلطی، کسی دوسرے عوامل یا پائلٹ کی حالت کا کتنا کردار تھا۔

editor

Related Articles