تعلیمی ادارے ویران، علاج نایاب، غذائی قلت سنگین، خیبرپختونخوا میں بحران گہرا ہوگیا

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، بدامنی اور انتظامی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر خاموشی اور سیکیورٹی فورسز سے عدم تعاون کی سیاست نے صوبے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے، اب عوام کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والی اس تخریبی سیاست کو بند کرنا ہوگا۔

صوبے کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ناقدین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا اس وقت صرف امن و امان کے بحران کا شکار نہیں بلکہ تعلیم، صحت، خوراک اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے بھی سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کے واقعات نے شہریوں میں خوف پیدا کر رکھا ہے تو دوسری طرف بنیادی سہولیات کی کم دستیابی نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

تعلیمی شعبے کی صورتحال کو خصوصی طور پر تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں رواں سال تعلیمی اداروں پر حملوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ یونیسف کے مطابق مئی 2026 تک صوبے میں اسکولوں پر کم از کم 9 حملے رپورٹ ہوچکے تھے، جن کے باعث ایک ہزار سے زائد طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی، جبکہ صوبے میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 45 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں بعض اسکول عملاً کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں، کئی جگہوں پر عمارتیں تباہ یا ناقابل استعمال ہیں، جبکہ جہاں اسکول موجود ہیں وہاں بھی اساتذہ کی حاضری اور تعلیمی معیار ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے سرکاری شعبے میں نام نہاد ’’گھوسٹ ٹیچرز‘‘ کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں، جن کے مطابق کاغذوں میں اساتذہ موجود ہیں مگر عملی طور پر ان کی حاضری اور تدریسی سرگرمیاں مشکوک ہیں۔

یہ مسئلہ صرف محکمہ تعلیم تک محدود نہیں، بلکہ ناقدین کے مطابق مختلف سرکاری محکموں میں بھی ’’گھوسٹ ملازمین‘‘، غیر حاضری، سیاسی مداخلت اور کمزور نگرانی جیسے مسائل موجود ہیں۔ ان شکایات کی وجہ سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ صوبائی خزانے سے تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی مد میں اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود عوام کو مطلوبہ سہولیات کیوں نہیں مل رہیں۔

صحت کے شعبے میں بھی صورتحال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں شہریوں کو بروقت علاج، ادویات اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔ دوسری جانب غربت اور مہنگائی کے باعث غریب خاندانوں کے لیے خوراک کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے صوبے میں جہاں پہلے ہی دہشت گردی، بے روزگاری اور غربت نے عوام کو مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے، وہاں بنیادی صحت، تعلیم اور خوراک کو حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں نے بھی بحث کو جنم دیا ہے۔ سرکاری طور پر جاری معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ اور پارٹی قیادت نے 3 سے 7 ستمبر تک سندھ کا پانچ روزہ دورہ کیا، جہاں 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں عوامی اجتماعات اور سیاسی سرگرمیاں کی گئیں۔

وزیراعلیٰ نے سندھ میں مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی حقوق، عمران خان کی رہائی اور 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے کارکنوں کو متحرک کیا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری اطلاعات میں بھی سندھ کے مختلف شہروں میں ان کی سیاسی سرگرمیوں اور اجتماعات میں شرکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، تعلیم، صحت، روزگار، خوراک اور سرکاری اداروں کی کارکردگی جیسے بنیادی مسائل موجود ہیں تو صوبائی حکومت کی اولین توجہ ان مسائل کے حل پر ہونی چاہیے یا سیاسی سرگرمیوں اور دوسرے صوبوں میں جلسوں اور رابطہ مہم پر؟

ان حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاسی سرگرمی ہر جماعت کا حق ہے، تاہم ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی بنیادی ذمہ داری اپنے صوبے کے عوام کو امن، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مؤثر سول تعاون بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

خیبرپختونخوا پولیس اور سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ اگست میں کور کمانڈر پشاور کے دورہ دیر کے موقع پر بھی خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف اس کے کردار کو سراہا گیا جبکہ مقامی آبادی کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون اور اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

اسی تناظر میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے یا اس پر خاموش رہنے کے بجائے صوبے میں تمام سیاسی قوتیں اور ریاستی ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ، دہشت گردی کا خاتمہ، تباہ شدہ اسکولوں کی بحالی، اساتذہ اور سرکاری ملازمین کی حاضری یقینی بنانا، اسپتالوں میں ادویات اور علاج کی فراہمی اور غریب خاندانوں کے لیے بنیادی سہولیات کی دستیابی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا کو اس وقت سیاسی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت واقعی صوبے کو بحران سے نکالنا چاہتی ہے تو اسے سیاسی محاذ آرائی کے بجائے انتظامی مشینری کو فعال، سرکاری اداروں کو جوابدہ اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کو مؤثر بنانا ہوگا، ورنہ بدامنی، غربت اور بنیادی سہولیات کے بحران کا بوجھ بالآخر عام شہری ہی برداشت کرتا رہے گا۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles