مشتری کے سامنے زمین کتنی چھوٹی ہے؟ حیران کن حقیقت سامنے آگئی

مشتری کے سامنے زمین کتنی چھوٹی ہے؟ حیران کن حقیقت سامنے آگئی

نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ مشتری اتنا دیوہیکل ہے کہ اس کے اندر حجم کے اعتبار سے 1300 سے زائد زمینیں سما سکتی ہیں۔ مشتری کا قطر تقریباً 1 لاکھ 43 ہزار کلومیٹر ہے، جو زمین کے قطر سے تقریباً 11 گنا زیادہ ہے، جبکہ اس کی کمیت زمین سے تقریباً 318 گنا زیادہ ہے۔

مشتری زمین کی طرح ٹھوس سطح رکھنے والا سیارہ نہیں بلکہ ایک گیس جائنٹ ہے، جو زیادہ تر ہائیڈروجن اور ہیلیم پر مشتمل ہے۔ اس کے ماحول میں جتنا نیچے جائیں، دباؤ اور درجہ حرارت اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے، یہاں تک کہ اندرونی حصے میں ہائیڈروجن انتہائی غیر معمولی حالت اختیار کر کے دھاتی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے کرپٹو پالیسی بدل دی،70 عالمی ایکسچینجز لائسنس کی خواہاں

مشتری کا مشہور گریٹ ریڈ اسپاٹ بھی ایک بہت بڑا طوفان ہے جو صدیوں سے جاری ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس کا حجم کم ہوا ہے، لیکن اب بھی یہ تقریباً زمین کے قطر کے برابر ہے اور اس میں ہواؤں کی رفتار سیکڑوں کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔

مشتری کے گرد 90 سے زائد چاند بھی دریافت ہو چکے ہیں۔ ان میں یوروپا خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس کی برفانی سطح کے نیچے نمکین پانی کا ایک وسیع سمندر موجود ہونے کے شواہد ملے ہیں، جس کی وجہ سے اسے نظام شمسی میں ممکنہ قابل رہائش ماحول کی تلاش کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

مشتری کی زبردست کشش ثقل نے اربوں سال کے دوران نظام شمسی کی ساخت پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ یہ کشش ثقل سیارچوں، دمدار ستاروں اور سیاروں کے مداروں کو متاثر کرتی رہی ہے۔ یعنی اگر زمین کو مشتری کے برابر رکھا جائے تو ہمارا پورا سیارہ اس دیوہیکل سیارے کے سامنے حیرت انگیز حد تک چھوٹا دکھائی دے گا۔

editor

Related Articles